کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 93
گکھڑوی کو گرفتار کرکے لے گئی اور ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں بند کردیا۔دو ہفتے کے بعد مجھے اور والد صاحب کو تو چھوڑ دیا،لیکن مولانا احمد الدین گکھڑوی تین مہینے جیل میں قید رہے۔
جب تک مولانا گکھڑوی امین پور بازار کی مسجد میں خطیب رہے،ان کا قیام وطعام ہمارے غریب خانے پر رہا۔والد صاحب کو ان سے اور انھیں والد صاحب سے انتہائی محبت تھی۔شہر اور مضافات میں جلسوں پر والد صاحب مولانا کو لے جاتے۔چوں کہ مولانا کی بینائی کمزور تھی،اس لیے والد صاحب خاص طور پر ان کا خیال رکھتے۔دن کے وقت اکثر مولانا مرحوم ہماری دکان گول بازار کریانہ پر والد صاحب کے پاس آجاتے،جہاں کاروبار کے ساتھ ساتھ مولانا سے میل جول کرنے والوں اور مسئلے مسائل پوچھنے والوں کا آنا جانا لگا رہتا۔مولانا گکھڑوی کے جگری دوست مولانا علی محمد صمصام تھے،جن کی رہایش فیصل آباد سے چند میل کے فاصلے پر چک نمبر 39 نزد ستیانہ بنگلہ میں تھی۔وہ بھی تبلیغی پروگراموں میں آتے جاتے ہمارے غریب خانے پر قیام فرماتے۔روپڑی برادران حافظ محمد اسماعیل اور حافظ عبدالقادر بھی پہلے والد صاحب سے آکر ملتے اور یہاں سے آگے جہاں شہر میں جانا ہوتا،جاتے تھے۔جلسے سے فراغت کے بعد بھی ان کا قیام ہمارے ہاں ہوتا۔
مولانا احمد الدین کے قیام کی وجہ سے دور دراز سے آنے والے علماکا قیام بھی ہمارے ہاں رہتا،جن میں مولانا عبدالمجید سوہدروی،حافظ محمد اسماعیل ذبیح،مولانا محمد رفیق خان پسروری،مولانا محمد عبداللہ گورداس پوری،مولانا سید عبدالغنی شاہ کامونکے والے شامل تھے۔والد صاحب اور والدہ ان کی خدمت یعنی کھانے پینے کا پورا حق ادا کرتے اور عقیدت و احترام کے ساتھ ان کی ضروریات کا خیال رکھتے۔یہ علما رات