کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 87
غزنوی نے فیصل آباد مرکزی جامع اہلِ حدیث امین پور بازار میں فون پر مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس بلایا۔اجلاس کا وقت جمعہ کے روز صبح نو بجے تھا اور دھوبی گھاٹ میں مشترکہ جمعۃ المبارک ادا کرنے اور نمازِ جمعہ کے بعد عصر تک احتجاجی جلسہ کرنے کا پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔شہر اور ضلع بھر میں اس روز اعلانات کیے گئے اور روزنامہ ’’اخبارات‘‘ میں اشتہارات اور خبریں بھرپور انداز میں شائع کر دی گئیں،جس کی وجہ سے شرکاء کی بھاری تعداد پنڈال میں جمع ہو گئی۔
جمعہ کے روز حسبِ پروگرام مجلسِ عاملہ کا اجلاس ہو رہا تھا کہ ڈپٹی کمشنر شفیع الاعظم،جو ڈھاکہ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھتا تھا،مع دیگر افسران کے اجلاس کے دوران میں مسجد میں آ گئے اور ڈپٹی کمشنر نے بڑے احترام سے مولانا غزنوی سے بات کرتے ہوئے اپیل کی کہ آپ دھوبی گھاٹ میں صرف جمعہ ادا کر لیں اور جلسے کا پروگرام کینسل کر دیں۔
چنانچہ خطبہ جمعہ کے لیے حضرت مولانا محمد اسماعیل کا اسمِ گرامی تجویز کیا گیا اور جلسہ منسوخ کر دیا گیا۔مولانا سلفی علیہ الرحمہ نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔آدھ گھنٹے کے خطبے میں آپ نے مسجد جڑانوالہ کا پسِ منظر بیان فرمانے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ اگر مسجد چوبیس گھٹنے کے اندر اندر واگزار نہ کی گئی تو ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں اور جلسے اور جلوس ہوں گے اور امن و امان کی ذمے داری انتظامیہ پر ہو گی۔مولانا کا اندازِ بیان باوجود مسئلے کی نزاکت کے انتہائی شگفتہ اور متاثر کن تھا،ان کی خطابت کے ایک ایک جملے سے حاضرین عش عش کر رہے تھے۔
بہرحال مسجد اٹھارہ گھنٹے کے بعد انتظامیہ نے واگزار کر دی۔پھر سالہا سال