کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 86
سیالکوٹی،مولانا عبدالباری فرنگی محل لکھنؤ وغیرہم تشریف فرما تھے۔ہر ملک سے ایک ایک عالمِ دین نے اپنے ملک کی نمایندگی کرنا تھی۔ہندوستان کی طرف سے ان عظیم شخصیات نے مولانا محمد اسماعیل سلفی کو نامزد کیا،کیوں کہ وہ مختصر وقت میں ما فی الضمیر خوب صورتی اور دلائل سے بیان کرنے میں قدرت کی طرف سے عطا کردہ وافر صلاحیتوں کے مالک ہیں۔حافظ صاحب نے بتایا کہ ہم دونوں بھائی،میں اور حافظ عبدالقادر،بڑے حافظ صاحب کے ہمراہ اس اجلاس میں شریک تھے۔چنانچہ مولانا سلفی نے موضوع کی مناسبت سے اعلیٰ پیمانے کی اس علمی مجلس میں برصغیر کی نمایندگی کا حق ادا کر دیا،جس پر انھیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ہر مکتبِ فکر کی طرف سے خوب سراہا گیا۔ میری عمر کے احباب کو معلوم ہو گا کہ پاکستان بنتے ہی غلہ منڈی جڑانوالہ کی مرکزی مسجد اہلِ حدیث کا تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔بریلوی حضرات نے مسجد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی،اس بنیاد پر کہ ہماری اکثریت ہے،جب کہ اہلِ حدیث قابض تھے اور حضرت مولانا محمد عبداﷲ ثانی امرتسری،جو جماعت کے اونچی سطح کے عالمِ دین تھے،شیریں بیان مقرر تھے،اس مسجد کے خطیب تھے۔جھگڑے کے طول پکڑنے پر انتظامیہ نے مسجد کی تالہ بندی کر دی،لیکن مسجد کے باہر اہلِ حدیث حضرات نمازِ پنجگانہ اور جمعہ بھی ادا کرتے رہے۔جمعہ کے بعد احتجاجی جلسہ منعقد ہوتا،جس میں تاندلیانوالہ سے مولانا محمد صدیق اور مولانا ابراہیم خادم تشریف لاتے۔فیصل آباد سے ہم بھی شبان اہلِ حدیث کے ساتھیوں کی ہمراہی میں اس احتجاج میں جوش و جذبے سے شرکت کرتے۔ ضلعی انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے امیر مرکزی جمعیت اہلِ حدیث مولانا