کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 85
علما کو سنگین سزاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہی جانبازوں اور مجاہدین کی قربانیوں کا ایک تسلسل تھا،جس کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا،لیکن افسوس کہ انگریز تو چلا گیا،لیکن اس کی معنوی اولاد ہم پر حکومت کر رہی ہے۔ملک کو اصل بنیاد کی طرف لے جانے کے لیے ضروری ہو گا کہ قراردادِ مقاصد کے مطابق تمام قواتین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے اور ایک اسلامی معاشرہ قائم کر کے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کو ایک نمونے کے طور پر عالمِ اسلام کے سامنے لایا جائے۔
ایک دفعہ آپ نے مولانا محمد صدیق کی دعوت پر مرکزی جامع مسجد اہلِ حدیث امین پور بازار میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔مولانا محمد صدیق نے ان کے حکم پر گوجرانوالہ چوک نیائیں میں مولانا کی مسجد میں خطبہ دیا۔مولانا نے اپنی روٹین کے مطابق سوا ایک بجے خطبہ ختم کیا اور دوسرے خطبے کے لیے منبر پر بیٹھ گئے۔ایک نمازی نے عرض کی: ’’حضرت! مولانا محمد صدیق تو اڑھائی بجے جمعہ پڑھاتے ہیں،آپ ابھی بیٹھ گئے!‘‘ مولانا نے فرمایا:
’’وہ جمعہ نہیں پڑھاتے،بلکہ جمعے کا جنازہ پڑھاتے ہیں۔میں نے جو کچھ کہنا تھا،کہہ دیا ہے۔‘‘
مولانا کی تحریر بھی اور تقریر بھی فصاحت و بلاغت کی بلندیوں کو چھوتی تھی۔بہت سی چھوٹی بڑی تصانیف ان کے زورِ قلم اور خطابت و تقاریر کے زورِ بیان اور دلنشین و شیریں کلامی کی آئینہ دار ہیں۔
مولانا حافظ محمد اسماعیل روپڑی نے یہ واقعہ سنایا کہ مسلمانوں کا عالمی سطح کا کوئی اہم مسئلہ تھا،جس کے لیے مختلف ممالک کے عالی مرتبت علما جمع ہوئے۔ہندوستان سے مولانا ابو الکلام آزاد،مولانا محمد سلیمان ندوی،مولانا محمد ابراہیم میر