کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 84
’’اﷲ تعالیٰ نے یہ لوگ میرے دھوبی رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
علمی وقار اور خود داری کی یہ کیفیت تھی کہ ایک مرتبہ فیصل آباد دھوبی گھاٹ شبان اہلِ حدیث کے زیرِ اہتمام سالانہ کانفرنس میں مولانا سے وعدہ لیا گیا۔اس زمانے میں یہ رواج تھا کہ علمائے کرام کو منی آرڈر کے ذریعے پیشگی کرایہ بھجوایا جاتا تھا۔میں نے پندرہ روپے مولانا کی خدمت میں منی آرڈر کیے،جب کہ فیصل آباد سے گوجرانوالہ کا کرایہ چار روپے لگتا تھا۔مولانا نے منی آرڈر واپس بھیجا اور لکھا:
’’مجھے پیشگی کرایہ وصول کرنے کی عادت نہیں ہے۔بشرطِ صحت و زندگی حاضر ہو جاؤں گا۔‘‘
چنانچہ مولانا تشریف لائے اور دیے ہوئے موضوع ’’سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ پر اظہارِ خیال فرمایا۔
تقسیمِ ملک کے بعد 1958ء تک مسلم لیگ کی حکومت رہی۔1957ء میں حکومتی سطح پر صد سالہ آزادی کا جشن منایا گیا۔1857ء کی جنگِ آزادی میں مجاہدین کی قربانیوں اور انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کی کاوشوں کے تذکرے جگہ جگہ بیان کیے جا رہے تھے۔ہم نے بھی شبان اہلِ حدیث کے زیرِ انتظام چوک گھنٹہ گھر میں جلسے کا پروگرام بنایا،مولانا محمد صدیق کی صدارت تھی اور مقررین میں حضرت مولانا محمد اسماعیل اور حضرت مولانا عبدالمجید سوہدروی تھے۔پہلی تقریر مولانا سوہدروی نے اپنے مخصوص اندازِ فکر و نظر سے کی اور اسلامی زندگی گزارنے کے دینی و دنیوی فوائد ذکر فرمائے۔بعد میں حضرت مولانا محمد اسماعیل نے اپنے دلنشین اور فصیح و بلیغ خطاب میں 1857ء کے حالاتِ پرآشوب،علمائے حق کی قید و بند کی صعوبتیں،علمائے صادق پور کے اس راہِ آزادی میں مصائب و ابتلائیں اور کالے پانی کی اہلِ حدیث