کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 83
شہر کے پڑھے لکھے طبقات وکلا،پروفیسر اور دانشور و تمام مکاتبِ فکر کے علما کی بھاری تعداد موجود تھی،جنھوں نے مولانا سے پروگرام کے بعد سوالات بھی کیے،جن کے مولانا نے بڑی خوب صورتی سے اطمینان بخش جوابات دیے۔ مظفر آباد سے واپسی پر راولپنڈی کی مرکزی جامع مسجد روڑ میں جلسے کا انتظام تھا،جس میں دیگر علمائے کرام اور مولانا نے خاص طور پر مسلکِ اہلِ حدیث کے زیرِ عنوان پرمغز خطاب فرمایا۔ اسی طرح ایک اور اہم سفر مولانا کی قیادت میں کرنے کا شرف حاصل ہوا،جس میں میاں فضل حق،مولانا محمد شریف اشرف،مولانا حافظ محمد ابراہیم کمیر پوری اور مولانا محمد عبداﷲ گورداسپوری آف بورے والہ بھی تھے۔یہ سفر خوشاب اور ایم ایم روڈ پر منکیرہ (بھکر) اور لیہ و مظفر گڑھ سے ملتان تک کا تھا،جو ہم نے طے کیا۔ہر مقام پر جلسوں سے خطاب بھی ان حضراتِ علما نے فرمایا اور تنظیمیں بھی قائم کیں۔بعض راستے میں آنے والے چھوٹے چھوٹے قصبات چوک اعظم وغیرہ میں مساجد کی بنیادیں بھی رکھیں،جنھیں میاں فضل حق نے مالی تعاون بھی عطا کیا۔ان پروگراموں میں بھکر کمیٹی باغ کا (بعد از نمازِ عشا) عظیم الشان جلسہ بے حد کامیاب اور پررونق تھا۔ مولانا محمد اسماعیل علم و عمل کی بلندیوں کے باوجود نہایت متواضع،سادہ اور شگفتہ طبیعت کے مالک تھے۔گاہے گاہے لطائف و ظرائف اور خوش طبعی سے بھی ساتھیوں کو محظوظ فرماتے۔دورانِ سفر میں کوئی عربی کتاب بھی ساتھ رکھتے اور وقتاً فوقتاً اس کا مطالعہ کرتے۔خوراک بے حد تھوڑی کھاتے۔میزبان کے مجبور کرنے پر فرماتے: ’’پیٹ کے معاملے میں مجھے آزاد رہنے دیجیے۔‘‘ اگر آپ کی مخالفت میں کسی کی بات بتائی جاتی تو فرماتے: