کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 82
کرتے رہیں،ہم ان کے ساتھ ہیں،لیکن خدارا فتویٰ بازی سے پرہیز کریں،کیوں کہ ہمیں پھر میدانِ علم میں آنا پڑتا ہے اور عوام کے لیے مسائل کی نوعیت اور صراحت کرنا پڑتی ہے۔‘‘ ان سطور کے راقم کو مولانا ممدوح کی قیادت میں چند ایک تنظیمی و تبلیغی سفر کرنے کی سعادت رہی ہے،جن میں سے ایک سفر مظفر آباد آزاد کشمیر کی سالانہ کانفرنس میں شرکت بھی ہے۔مولانا کے ساتھ دوسرے ہم سفر علمائے گرامی قدر حافظ محمد اسماعیل ذبیح،حافظ عبدالحق صدیقی،میاں فضل حق،مولانا عبدالعزیز حنیف،مولانا سید حبیب الرحمان شاہ،مولانا محمد عبداﷲ مظفر گڑھی (خطیب صدر راولپنڈی) اور مولانا محمد صدیق فیصل آبادی رحمہم اللہ تھے۔راولپنڈی کے کاروباری حضرات میں سے غالباً چوہدری محمد یعقوب امیر جمعیت راولپنڈی اور حاجی محمد شفیع بھی ہمراہ تھے۔ ہمارے میزبان حضرت مولانا محمد یونس اثری امیر مرکزی جمعیت اہلِ حدیث آزاد کشمیر اور ان کے رفقا علمائے کرام اور کارکنان تھے۔تین روزہ (جمعہ۔ہفتہ۔اتوار) کانفرنس میں خطبہ جمعہ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب نے ارشاد فرمایا۔اتوار کے روز ظہر سے قبل مولانا کا خصوصی خطاب پریس کلب میں ’’اسلام اور سوشلزم‘‘ کے موضوع پر رکھا گیا۔ اغلب خیال ہے کہ یہ پروگرام 1970ء کے مارچ میں تھا،جب کہ مسٹر بھٹو ملکی سیاست پر چھائے ہوئے تھے اور سوشلزم کے ساتھ روٹی کپڑے کے نام پر عوام کو فریب دیتے ہوئے ملک کے دورے کر رہے تھے۔ مولانا علیہ الرحمۃ نے اپنے خطاب میں اسلام کے نظامِ حیات،خصوصاً معاشیات کو انتہائی فصیح انداز میں بیان فرمایا۔حاضرین میں پریس نمایندگان کے علاوہ