کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 81
’’علمائے محدثین بیک مذہب از مذاہب مجتہدین پابند نمے باشد،بس بعض اعمال ایشان مطابق کتب فقہ مے باشد و بعضے دیگر مطابق کتب دیگر۔‘‘ (فتاویٰ عزیزی) شاہ صاحب کے ارشاد سے واضح ہے کہ یہ ایک مستقل مکتبِ فکر ہے،جس میں پابندی اور جمود نہیں۔‘‘ مولانا محمد اسماعیل رحمہ اللہ کی تحریروں اور نگارشاتِ عالیہ سے مسلکِ اہلِ حدیث کی حقانیت و صداقت کھل کر اور واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔بڑی بڑی کانفرنسوں اور سالانہ جلسوں میں اکثر حضرت مولانا خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے تو اہلِ حدیث کا امتیازی منہج اور فقہی مذاہب سے اس کا تقابل مختصر وقت میں ایسے بیان فرماتے کہ کوزے میں دریا بند کر دیتے۔ان کے گوجرانوالہ میں خطباتِ جمعہ اور فجر کے بعد درسِ قرآن مجید کی بہاریں جن لوگوں نے دیکھی اور سنی ہیں،وہ انھیں بھلا نہیں سکتے۔بعض مشکل ترین موضوعات و اَشکال کے حل کو نہایت مختصر اور جامع پیرائے میں مدلل طور پر سامعین کے گوش گزار کر دینا ان کا عام معمول تھا۔اگر کسی حلقے کی طرف سے حدیث پر یا مسلکِ اہلِ حدیث پر حرف آتا دیکھتے تو فوراً اس کا جواب اخبارات و جرائد میں بھی اور تقاریر میں بھی دیتے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ مولانا مودودی ’’ترجمان القرآن‘‘ میں یا اخبارات میں کوئی ایسا فتویٰ دیتے،جس سے علمی حلقوں میں مغالطے پیدا ہوتے اور تشریحاتِ قرآن و سنت سے مطابقت نہ رکھتے تومولانا علیہ الرحمہ اس کا دلائل سے تعاقب کرتے۔ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: ’’مولانا مودودی سیاسیات میں رہیں اور دستورِ اسلامی کے نفاذ کی تگ و تاز