کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 66
یہاں بھی لکھ رہا ہوں ع غزنی دی ہٹوں بھاگ لگّا جہان نوں کابل،کشمیر نالے ہندوستان نوں دُور دے طالب آون پاون عرفان نوں عالم تے صوفی برکت ایسے دربار دی جھوک ہادی میرے عبدالجبار دی رو رو لدائی چٹھی آ گئی سرکار دی دور داودی پھر بھی قابلِ تسلی اے جس دی بدولت نہر علم دی چلّی اے سارے گھرانے دی ایک پونی تے چھلّی اے عمر دراز قومی خدمت گزار دی جھوک ہادی میرے عبدالجبار دی رو رو لدائی چٹھی آ گئی سرکار دی حضرت مولانا سید محمد داود غزنوی کی جماعتی و مسلکی اور قومی و ملی جدوجہد پر سیکڑوں صفحات تحریر میں آ چکے ہیں،میرے جیسا طالبِ علم ان میں کیا اضافہ کر سکتا ہے۔مختصر یہ کہ وہ علومِ اسلامی کا بحرِ بیکراں تھے۔تحریکِ خلافت،تحریکِ آزادی،تحریکِ پاکستان اور تحریکِ ختمِ نبوت جیسی بے شمار تحریکوں اور کاوشوں میں ان کا کردار ہمیشہ سرفہرست رہتا۔16 دسمبر 1963ء کو ان کے انتقالِ پرملال کے چند روز بعد مرکزی جمعیت کی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس تقویۃ الاسلام ہال لاہور میں منعقد ہوا تھا۔ ان سطور کا راقم مولانا غزنوی کی شفقت سے نوعمری ہی میں رکنِ شوریٰ تھا اور