کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 64
ہوں کہ ان علمی کمالات کے حاملین کے سامنے میرے جیسا طالبِ علم اپنی ذمے داریوں کو کیوں کر اور کس طرح ادا کر سکے گا؟!‘‘ بہرحال انھوں نے دو اڑھائی گھنٹے تک اپنی خطابت کی جولانیاں دکھائیں۔ حضرت سید محمد عبداﷲ غزنوی کی پاک طینت اولاد میں سے خاص طور پر حضرت الامام عبدالجبار غزنوی اور حضرت سید عبدالواحد غزنوی نے وعظ و تذکیر اور درس و تدریس میں بڑی شہرت پائی۔تقویٰ،خشیتِ الٰہی اور ذکر و وظائف تو اس گھرانے کا امتیازی وصف تھا ہی۔ ان سطور کے راقم نے نوعمری میں برصغیر کے عظیم خطیب سید عطاء اﷲ شاہ بخاری کو دھوبی گھاٹ فیصل آباد کے ایک بڑے جلسے میں غزنوی خاندان کی خدماتِ دینیہ اور زہد و پارسائی کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا۔شاہ جی بیان کر رہے تھے کہ میں نے فجر کی ایک نماز مولانا سید عبدالواحد غزنوی کی اقتدا میں چینیاں والی مسجد لاہور میں ادا کی،جس کی لذت میں آج تک محسوس کرتا چلا آ رہا ہوں۔ حضرت الامام عبدالجبار غزنوی کے شاگردانِ رشید کا دائرہ بڑا وسیع ہے،وہ مستجاب الدعوات تھے۔روحانی کیفیات اور قلبی احساسات میں خاص مقام رکھتے تھے۔ان کے بلند مرتبت شاگردوں میں احناف کے بعض علمائے شہیر بھی شامل ہیں،جن میں سے بطور مثال ایک جامعہ اشرفیہ لاہور کے بانی مولانا مفتی محمد حسن بھی ہیں،جنھوں نے حضرت الامام سے حدیث پڑھی۔آخری عمر میں کسی بیماری کی وجہ سے ان کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی تھی،لیکن چلنے پھرنے کی اس تکلیف کے باوجود روزانہ مولانا داود غزنوی کے پاس نمازِ عصر کے بعد دار العلوم تقویۃ الاسلام کی بالائی منزل میں رہایش گاہ پر تشریف لاتے۔دونوں حضرات ملکی و ملی مسائل اور دینی احوال و کوائف