کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 58
آتے،جن کی بھولی بسری یادیں دل و دماغ کی دنیا میں تاحال موجود ہیں۔ مارچ 1963ء میں شبان اہلِ حدیث کے زیرِ اہتمام دھوبی گھاٹ کے میدان میں تین روزہ کانفرنس بڑی آب و تاب کے ساتھ منعقد ہوئی تھی،جس کی صدارت مولانا غزنوی نے فرمائی تھی۔جمعے کا خطبہ بھی انھوں نے دینا تھا،لیکن کسی اہم مصروفیت کے باعث جمعے پر تشریف نہ لا سکے،چنانچہ علامہ محمد یوسف کلکتوی مرحوم نے خطبہ ارشاد فرمایا۔مولانا غزنوی مغرب کے بعد ڈاچی ایکسپریس پر لاہور سے فیصل آباد تشریف فرما ہوئے۔حاجی محمد یوسف چغتائی (سیکرٹری جنرل انجمن اہلِ حدیث فیصل آباد) کے مکان کچہری بازار میں کھانے کے بعد میں مولانا کو ایک ٹیکسی پر لے کر دھوبی گھاٹ کی طرف روانہ ہوا۔ بھوانہ بازار کے باہر چوک سے جب پنڈال شروع ہوا تو سڑک پر چہل پہل اور کانفرنس کے پنڈال میں درختوں پر بھاری تعداد میں روشن قمقموں کو دیکھ کر مولانا فرمانے لگے: ’’بھئی یوسف! یہاں کوئی نمایش لگی ہوئی ہے؟‘‘ میں نے عرض کی: حضرت! یہ تو کانفرنس کا وسیع پنڈال ہے اور باہر سڑک پر دو رویہ کھانے پینے اور کتب وغیرہ کی دکانیں لگی ہوئی ہیں۔مولانا نے فرمایا: ’’آپ نوجوانوں نے اتنا بڑا اہتمام کیا ہے،میں تو حیران اور خوش بھی ہو رہا ہوں۔‘‘ جوں ہی ہم اسٹیج پر پہنچے تو مولانا قاری عبدالخالق رحمانی آف کراچی،جب کہ اس زمانے میں ان پر بڑا جوبن تھا،تقریر کر رہے تھے اور ان کے دھواں دھار اندازِ بیان سے پورا مجمع مسحور ہو رہا تھا۔مولانا غزنوی کے اسٹیج پر جلوہ فرما ہوتے ہی تمام سامعین کھڑے ہو کر زیارت کرنے لگے۔تقریر رُک گئی۔مولانا چند منٹ کھڑے رہے۔مولانا عبیداﷲ احرار نے زور دار نعروں سے آپ کا استقبال کیا۔مولانا پورے