کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 51
حافظ صاحب نے دلجوئی فرمائی اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔حضرت حافظ صاحب اپنے ہم عمر علما،مولانا محمد صدیق،مولانا محمد اسحاق چیمہ،مولانا عبدالرحیم اشرف اور مولانا عبیداﷲ احرار سے بے تکلف اور خوش مزاح گفتگو فرماتے،جن کی باغ و بہار مجلسوں سے میرے جیسے نوجوان بڑی سوجھ بوجھ اور فکری راہنمائی حاصل کرتے۔
فیصل آباد میں کلیہ دار القرآن والحدیث جناح کالونی کے سالانہ جلسے پر حضرت حافظ صاحب کی شمولیت حضرت الاستاذ مولانا محمد عبداﷲ ویرووالوی ضروری قرار دیتے۔حافظ صاحب سے رابطہ اور وعدہ میری ڈیوٹی ہوتی۔حضرت حافظ محمد اسماعیل کے انتقال کے بعد حافظ عبدالقادر صاحب بھی تا حینِ حیات شرکت فرماتے رہے۔سالانہ کانفرنسیں اور جلسے تو اب بھی ہوتے ہیں،مگر وہ اسلاف کا دعوت و تبلیغ کا مخلصانہ رنگ نظر نہیں آتا۔
حضرت حافظ صاحب کے دعوتی و تبلیغی سفروں کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا۔کسی بھی کانفرنس یا جلسے میں ان کے خطاب کو اہمیت حاصل رہتی۔صوبہ سندھ کے بڑے بڑے شہروں: کراچی،حیدر آباد اور میرپور خاص ان کی وعظ و تذکیر سے گونجتے رہے۔ان شہروں میں ان کے ہمراہ پیر سید بدیع الدین شاہ راشدی اہم ترین مقرر ہوتے۔
کراچی میں مولانا عبدالخالق رحمانی کی معیت میں ان کے تبلیغی پروگراموں کا سلسلہ ہفتوں جاری رہتا۔کراچی میں قائد اعظم کے مزار کے سامنے اس زمانے میں ایک بڑی کوٹھی ’’قیوم منزل‘‘ کے نام سے موسوم تھی،جس کے مالک حاجی عبدالقیوم پشاوری تھی اور ان کی قیوم ٹیکسٹائل ملز بھی کراچی میں تھی۔حاجی صاحب حضرت حافظ صاحب کے بڑے عقیدت مند تھے۔وہ رمضان المبارک میں اپنی اسی کوٹھی کے وسیع