کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 50
یہ الفاظ سن کر مولانا غزنوی کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور پورے ماحول پر ایک غم آلود سناٹا چھا گیا۔ سنتِ نبوی کے مطابق آخر دم تک بڑوں کا احترام و تکریم اور چھوٹوں پر شفقت و رافت،خصوصاً نوجوان علما کی حوصلہ افزائی حضرت حافظ صاحب کا پوری زندگی کا شعار رہا۔بہت سے نوجوان علما کو تنہائیوں سے نکال کر میدانِ تبلیغ میں لانا اور اسٹیج کی رونق بنانا ان کا معمول رہا۔ مولانا حافظ محمد ابراہیم کمیر پوری محقق عالمِ دین تھے،لیکن تقسیمِ ملک کے بعد وہ یہ میدان چھوڑے ہوئے تھے اور جھنگ میں انصاری برادری کے ترجمان ہفت روزہ ’’صنعتی پاکستان‘‘ کی ادارت فرماتے تھے۔حافظ محمد اسماعیل انھیں اسٹیج پر لائے،جو آگے چل کر ایک معروف مقرر اور دانشور ہی نہیں،بلکہ کامیاب مناظر بنے۔ مولانا محمد حسین شیخوپوری اپنے گاؤں میں زمیندارہ کرتے اور شعر و سخن سے دلچسپی رکھتے تھے۔حضرت حافظ صاحب انھیں اسٹیج پر لائے،جو خطیبِ پاکستان کے لقب سے شہرت پا گئے،اور ان کی تبلیغی سرگرمیوں اور دعوت و ارشاد سے ملک اور بیرونِ ملک لوگ مستفید ہوئے۔ مولانا محمد رفیق مدن پوری ہماری جماعت کے نامور مقرر اور نوجوان خطیب تھے،جو شروع میں شہر کے ایک دور افتادہ محلہ مدن پورہ کی مسجد کے غیر معروف عالمِ دین اور پاور لومز پر کام کرتے تھے۔انھیں بھی حضرت حافظ صاحب نے اسٹیج کی زینت بنایا اور وہ میدانِ تبلیغ کے شہسوار کے طور پر مشہور ہوئے۔ مولانا سید عبدالغنی شاہ آف کامونکے جیسے خوش گفتار مبلغ بھی انہی کا فیض تھے۔ ان نامی گرامی علما و مبلغین کے علاوہ بیشتر نوخیز علما اور فارغ التحصیل طلبا کی