کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 49
کے درمیان علمی گفتگو کی حد تک مسئلہ تھا،منبر و محراب یا اسٹیج پر موضوعِ سخن نہیں بنایا جا رہا تھا۔حضرت حافظ محمد اسماعیل صاحب کو خطبے کے آخر میں کسی نے رقعہ دیا کہ مسئلۂ امارت کی آپ ذرا وضاحت فرمائیں۔حافظ صاحب غصے میں آ گئے اور جواباً فرمایا: ’’کیا آپ چاہتے ہیں کہ آج میں یہ مسئلہ بیان کروں اور اگلے جمعے کو حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی اپنے خطبے میں اس کا جواب دیں،اس زبان سے اس قسم کی توقع ہر گز نہ رکھیں،البتہ جس نے مسئلہ سمجھنا ہو،نماز کے بعد میرے پاس آئے،میں سمجھا دوں گا۔‘‘ نہ صرف یہ حافظ صاحب کی بلند اخلاقی تھی،بلکہ وہ گوجرانوالہ سے روانہ ہوتے ہوئے راستے میں مولانا محمد اسماعیل صاحب سے ملاقات کر کے اور ان کی خیریت معلوم کر کے لاہور روانہ ہوتے۔
حضرت حافظ صاحب جنوری 1962ء میں اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے تھے۔وفات سے ہفتہ عشرہ پہلے کی بات ہے کہ وہ بیماری کی شدت کے باعث گنگا رام ہسپتال کی بالائی منزل میں زیرِ علاج تھے۔فیصل آباد سے تین چار دوستوں کے ساتھ میں بھی ان کی تیمار داری کے لیے حاضر تھا کہ اتنے میں مولانا سید محمد داود غزنوی تشریف لائے،ان کے ہمراہ مولانا محمد اسحاق بھٹی ایڈیٹر ’’الاعتصام‘‘ بھی تھے۔مولانا داود غزنوی ان دنوں عارضۂ قلب میں مبتلا تھے،انھیں دیکھتے ہی حافظ محمد اسماعیل نے اپنی کمزور آواز میں عرض کی کہ آپ اپنی شدید علالت کے باوجود کیوں تشریف لائے؟ آپ نے یہ زحمت کیوں فرمائی؟ کسی سے میری صحت کے متعلق دریافت فرما لیتے۔حافظ صاحب نے مولانا غزنوی سے مزید عرض کی:
’’حضرت آپ قوم کی متاعِ عزیز ہیں،جماعت اور ملک و ملت کو آپ کی بہت ضرورت ہے،میرا کیا ہے،میں تو ایک عام مولوی ہوں۔‘‘