کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 48
آں کتاب زندہ قرآن حکیم حکمتِ او لا یزال است و قدیم
اگلے سال 1954ء میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کی سالانہ کانفرنس ملتان میں مولانا سید محمد داود غزنوی کی صدارت میں اسی موضوع پر حافظ صاحب کی تقریر دل پذیر کانفرنس کا حاصل تھی۔
اپنے اسلاف اور ان کے کارناموں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔یہ ایک بیّن حقیقت ہے اور میرے مشاہدات و تاثرات ہیں،جن میں تعریف و تحسین تو ہے،لیکن کوئی مبالغہ آرائی ہر گز نہیں۔
حضرت حافظ محمد اسماعیل آسمانِ خطابت کے درخشندہ آفتاب تھے،جن کی سادہ اور متواضع زندگی کے کئی ایک گوشے ہمارے لیے روشنی کے مینار ہیں۔میں ان کے حوالے سے اپنی یاد داشتوں پر نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے بہت سے اہم واقعات یاد آتے ہیں۔اپنے سے بڑوں کے ساتھ مروت اور علم و فضل کے حاملین کا احترام،حضرت حافظ صاحب کے ہمیشہ پیشِ نظر رہتا۔وہ کچھ عرصہ جامعہ اسلامیہ آبادی حاکم رائے (گلشن آباد) گوجرانوالہ میں خطیب رہے،حضرت الاستاذ حافظ محمد گوندلوی بھی قریب رہایش ہونے کی وجہ سے وہاں ہی جمعہ پڑھتے تھے۔حافظ محمد اسماعیل ہر جمعے کو امامت کے لیے حضرت گوندلوی کو آگے کرتے،ان کے اصرار کے باوجود کبھی مصلے پر نہ آتے۔
ایک دفعہ میں نے اور میرے دوست مولوی محمد اسحاق مرحوم (عرف راکٹ) نے اسی مسجد میں جمعہ ادا کیا۔اس زمانے میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث اور مرکزی جماعت اہلِ حدیث کے قابلِ صد احترام اور عالی قدر راہنماؤں کے درمیان مسئلہ امارت زیرِ بحث تھا کہ جماعتی نظام زیرِ امارت تشکیل پایا جانا چاہیے۔یہ نجی مجلسوں اور علما