کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 47
ایک روزہ ختمِ نبوت کانفرنس منعقد ہو رہی تھی۔جمعے کا دن تھا۔رات کے اجلاس میں طے پایا کہ صرف شاہ جی،حافظ محمد اسماعیل روپڑی اور مولانا محمد علی جالندھری کی تقریریں ہوں گی۔مولانا محمد علی جالندھری اسٹیج سیکرٹری بن گئے اور صرف دو تقریروں کا پروگرام رکھا گیا،مجھے مولانا عبیداﷲ احرار نے مائیک پر آواز دی کہ موجود ہیں تو نظم سنائیں،چنانچہ میں نے مولانا صمصام کی مشہور نظم ع
ویکھو مرزے قادیان والے کہیّاں پایاں بھنڈیاں
کئی قوماں دیاں قوماں کر گیا اے گندیاں
ترنم سے سنائی۔اسی نظم پر میں تحریک کے آغاز پر چند دن ڈسٹرکٹ جیل میں بھی گزار چکا تھا۔بہرحال میری نظم کے بعد حضرت حافظ محمد اسماعیل روپڑی نے معرکہ آرا اور تاریخی خطاب فرمایا۔انھوں نے سورت یوسف کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ﴿فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ﴾[یوسف: ۵۰] کے تحت ذکر فرمایا کہ مارشل لاء حکام جب تک ہمیں یہ نہ بتائیں گے کہ ہمارے کارکنان کو کس جرم کی پاداش میں سزائیں دی گئی ہیں،اس وقت تک ہم ان کی رہائی قبول نہیں کریں گے۔
سورت یوسف حضرت حافظ صاحب کا خاص موضوع ہوا کرتا تھا،جس کی تفسیر و تشریح کرتے ہوئے وہ بہت سے نکات اور مسائل کا استنباط فرمایا کرتے تھے اور پھر انھیں حالاتِ حاضرہ پر ایسے منطبق فرماتے تھے کہ جیسے آج ہی کے حالات میں ان کا نزول ہوا ہے۔بلاریب قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ اس میں کوئی پرانا پن نہیں۔کوئی سا دور ہو اور کیسا بھی وقت ہو،پیش آمدہ مسائل کا حل اس میں نظر آئے گا،بقول اقبال ع
تو نمے دانی کہ آئین تو چیست زیر گردوں سرِّ تمکین تو کیست