کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 46
’’یا اﷲ! ہم تیرے دین کے مسافر اور طالب علم ہیں،ہماری سفارش قبول فرما کر ان بچوں کی والدہ کی خواہش کے مطابق قریبی اسٹیشن رینالہ خورد میں ان کے والد کو ٹرانسفر فرما دے۔‘‘ حافظ صاحب نے نہایت رقت اور عاجزی سے یہ الفاظ ادا کیے۔اتفاق ایسا ہوا کہ چند روز گزرے تھے،اسی گاؤں کے قریب کسی گاؤں میں تبلیغی پروگرام تھا،جس میں شرکت کے لیے اسی اسٹیشن پر اترے۔جب ہم نے اسٹیشن ماسٹر کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ کچھ دن قبل وہ رینالہ خورد جا چکے ہیں۔یہ حضرت حافظ صاحب کی پرخلوص دعا اور بچوں کے ساتھ شفقت آمیز رویے کا نتیجہ تھا۔یہ واقعات ہمارے علمائے کرام کے لیے قابلِ توجہ ہیں۔ فیصل آباد میں آج کی پیپلز کالونی بیسیوں مربع اراضی پر مشتمل ہے۔جو واقعہ میں ذکر کرنے لگا ہوں،یہ اس دور کی بات ہے جب یہاں بہت بڑا گراسی میدان اور پارک قسم کے باغات تھے،ابھی کوئی آبادی نہ تھی۔1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت اختتام پذیر ہو چکی تھی،مگر کامیابی کے لحاظ سے وہ اپنے منطقی انجام کو نہ پہنچ سکی تھی۔جگہ جگہ کارکنان جیلوں میں بند تھے اور وہ باہر نہ آنے اور رہا نہ ہونے پر مصر تھے،اس لیے کہ جسٹس منیر انکوائری کر رہے تھے۔مارشل لاء حکام سے تحریک کے قائدین مولانا سید محمد داود غزنوی،مولانا سید عطاء اﷲ شاہ بخاری اور دیگر احرار راہنما رابطے میں تھے۔یہ حضرات چاہتے تھے کہ جن کارکنان کو شہید کیا گیا یا جن پر پولیس نے ناروا مظالم ڈھائے ہیں،انھیں قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے علما اور رضاکاران کا جرم بتایا جائے۔ انہی حالات کے تناظر میں فیصل آباد کی پیپلز کالونی کے بڑے میدان میں