کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 45
دو اڑھائی بجے دوسری گاڑی نے آنا تھا۔بارہ ایک بجے کے قریب سب کو بھوک نے ستایا،مگر چھوٹے اسٹیشن پر ہونے کی وجہ سے پلیٹ فارم پر پکوڑے تک نہ تھے۔ہم ایک بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ سامنے دو تین کوارٹر نظر آ رہے تھے،جو ریلوے ملازمین کے تھے اور ان کے آگے تین چار بچے کھیل کود رہے تھے۔
حضرت حافظ محمد اسماعیل صاحب نے پیار بھرے اشارے سے بچوں کو بلایا اور فرمایا کہ بھئی آپ کا والد کدھر ہے؟ انھوں نے کہا کہ وہ اسٹیشن ماسٹر ہیں اور کسی کام سے لاہور گئے ہوئے ہیں۔حافظ صاحب نے کہا: اپنی اماں سے جا کر ہمارا ذکر کرو کہ ہم فلاں گاڑی سے رات جلسہ کر کے آئے ہیں،گاڑی چلی گئی ہے اور اب کھانے کو کچھ نہیں،دوسری گاڑی آنے میں ابھی گھنٹا ڈیڑھ گھنٹا باقی ہے،اگر صبح کی پڑی ہوئی کھانے پینے کی اشیا روٹی سالن وغیرہ ہے تو بھیج دیں۔بچوں نے جا کر والدہ کو بتایا،وہ کوئی نیک بی بی تھی،اس نے کہا کہ ان علما سے کہیں کہ میں تھوڑی دیر میں تازہ روٹیاں پکا دیتی ہوں،انتظار کریں ! چنانچہ کچھ دیر بعد روٹیاں،سالن،اچار اور ایک بالٹی لسی کی بھی آ گئی۔
اب حافظ صاحب نے بچوں کو بلا کر فرمایا کہ ہم دعا کرنے لگے ہیں،اپنی ماں سے پوچھ کر آؤ کہ کیا دعا کریں ؟ انھوں نے آ کر بتایا کہ ماں کہتی ہے کہ دعا کریں کہ ہمارے باپ کی یہاں سے تبدیلی ہو جائے،کیوں کہ اس جنگل میں ہم اداس اور پریشان رہتے ہیں۔حافظ صاحب نے دوبارہ فرمایا کہ پوچھ کر آئیں: کس ریلوے اسٹیشن پر تبدیل ہو جائیں ؟ حافظ محمد ابراہیم کمیر پوری بڑے زندہ دل اور مرنجاں مرنج طبیعت رکھتے تھے،کہنے لگے: حضرت! آپ دعا کرنے لگے ہیں یا ٹرانسفر آرڈر دینے لگے ہیں۔بہرحال حضرت حافظ صاحب نے ہاتھ اٹھا دیے اور ہم سب نے بھی۔حافظ صاحب بارگاہِ رب العزت میں عرض کر رہے تھے: