کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 41
صبح جامعہ سلفیہ کی بنیاد بھی اکابرِ جماعت نے رکھی تھی۔کانفرنس کے آخری اجلاس میں امیرِ جمعیت حضرت مولانا سید محمد داود غزنوی کی خصوصی دعوت پر حضرت العلام مولانا حافظ محمد عبداﷲ روپڑی،حضرت حافظ محمد اسماعیل روپڑی اور مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی نے شمولیت فرمائی تھی۔اس عظیم اجتماع میں حافظ محمد اسماعیل نے باوجود اپنی ٹانگ کے درد اور شدید علالت کے خطاب فرمایا۔یاد پڑتا ہے کہ انھوں نے﴿يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ*الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ * فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ ﴾[الانفطار: ۶۔۸] کے تحت تقریر فرمائی تھی۔بیماری کے اثرات ان کے جسم و جان پر حاوی تھے،پھر بھی یہ تقریر ان کی روایتی شیریں کلامی اور بلند پایہ خطابت کی آئینہ دار تھی۔
حافظ محمد اسماعیل بڑے دلیر اور جراَت مند عالمِ دین تھے۔ایک دفعہ گوجرہ میں تھانے کے نزدیک مسجد اہلِ حدیث میں جلسہ تھا۔جمعے کا خطبہ شیخ الحدیث مولانا محمد یعقوب نے دیا۔بعد ازاں مولانا علی محمد صمصام نے اپنے عوامی انداز میں شرک و بدعات کی تردید کی۔اس زمانے میں گوجرہ میں متشدد بریلوی مولوی صوفی غلام حسین ہوا کرتے تھے،جنھوں نے تھانہ جا کر مولانا صمصام کے خلاف انسپکٹر کو اکسایا،جس نے مولانا کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔
حضرت حافظ محمد اسماعیل نے یہاں فیصل آباد امین پور بازار میں جمعہ پڑھایا تھا،جس کے بعد وہ ٹرین پر گوجرہ روانہ ہوئے۔میرے والد،خود میں بھی،دیگر چند احباب کے ہمراہ حافظ صاحب کی معیت میں شام کے وقت جب گوجرہ اسٹیشن پر پہنچے تو انھیں مولانا صمصام کے بارے میں بتایا گیا۔حافظ صاحب کہنے لگے کہ پہلے ہم تھانہ جائیں گے،جہاں جا کر حافظ صاحب نے انسپکٹر سے پوچھا کہ آپ نے مولانا کو