کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 407
نواب صدیق حسن خان بھوپالی اور مولانا حنیف ندوی کی تحریروں سے حوالہ جات کے ساتھ مسلک اہلِ حدیث کی حقانیت اور لقب اہلِ حدیث کے وصفی نام کو خوب اجاگر کیا ہے،جس سے کتاب کی افادیت دوچند ہو گئی ہے۔ آج کا دور سائنسی اور علمی دور ہے،پڑھا لکھا طبقہ تقلید اور جمود کا شکار نہیں ہے۔ہمارے اس دعوے کی تائید میں روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے معروف کالم نگار ہارون الرشید کے کالم مورخہ 18 جون 2009ء سے چند جملے قارئین کی نذر ہیں: ’’قرآن مجید کے مطابق اﷲ کے آخری رسول ہی وہ واحد ہستی ہیں،جنھیں مکمل ترین نمونۂ عمل کہا گیا اور ان کا یہ فرمان بالکل واضح ہے: ’’تمھارے لیے دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں،ان پر عمل کرو گے تو نجات پاؤ گے،قرآن اور سنت۔‘‘ ہارون الرشید صاحب مزید لکھتے ہیں: ’’فقہا علم کی دنیا کے تاجدار ہیں اور ان میں بہت معزز اور محترم ہستیاں بھی،مگر یہ حکم ہمیں نہیں دیا گیا کہ لازماً ان میں سے کسی کے قول یا طرزِ عمل کی پیروی بھی ہم پر لازم ہے۔‘‘ آگے جا کر لکھتے ہیں: ’’مفتی محمد شفیع مرحوم نے لکھا ہے کہ مولانا انور شاہ کاشمیری قلق کا شکار رہے کہ ان کی زندگی فقہ حنفی کی بالاتری ثابت کرنے میں ضائع ہو گئی۔‘‘ الغرض ’’لقب اہلِ حدیث‘‘ برادرِ عزیز رانا محمد شفیق خان کی گراں قدر تالیف ہے جو حاملینِ کتاب و سنت کے لیے اپنے شفاف عقیدے پر ایک بیّن دلیل ہے اور معترضین و مخالفین کے لیے صراطِ مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہے،جب کہ مضبوط جلد