کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 406
بارے میں انھوں نے کیا خوب لکھا ہے:
’’امام ابو حنیفہ بھی افواجِ بحرِ اہلِ حدیث کی ایک بلند مرتبت فوج ہی تھے،چنانچہ کتاب اصول الدین (صفحہ: 312) میں ہے: ’’أصل أبي حنیفۃ في الکلام کأصول أھل الحدیث‘‘ ’’کلام میں امام ابو حنیفہ کا اصول اہلِ حدیث کے اصول کی طرح تھا۔‘‘
حدائق الحنفیہ (صفحہ: 134) میں ہے: ’’حضرت سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: مجھے سب سے پہلے امام ابو حنیفہ نے اہلِ حدیث بنایا۔ائمہ اربعہ کے علاوہ بھی محدثین اور امامانِ دین لقبِ اہلِ حدیث کو پسند کرتے تھے۔‘‘
حضرت امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں: ’’أما مسلم،والترمذي،والنسائي،وابن ماجہ،وابن خزیمۃ،وأبو یعلی،و بزار ونحوہم فھم علی مذھب أھل الحدیث لیسوا مقلدین لواحد‘‘ (مجموعۃ فتاویٰ: ج ۲۰،ص: ۴۰) ’’امام مسلم،ترمذی،ابن ماجہ،ابن خزیمہ،ابو یعلی،بزار وغیرہم تمام اہلِ حدیث تھے،کسی کے مقلد نہیں تھے۔
رانا صاحب نے تاریخی حوالوں سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہابی یا نجدی انگریز کے دیے ہوئے لقب ہیں،جن کا اطلاق اہلِ حدیث پر ہر گز نہیں ہوتا اور جن علمائے سوء نے لقبِ وہابی عام کیا،انگریز کی طرف سے انھیں مراعات اور انعامات سے نوازا گیا،اسی طرح محمد بن عبدالوہاب کی تحریک سے تحریکِ آزادی اہلِ حدیث کی مشارکت کے لیے جو من گھڑت روایات کتابوں میں لکھی جاتی ہیں،بالکل غلط ہیں اور ہندوستانی اہلِ حدیث اس بہتان سے مبرا ہیں۔
رانا صاحب نے پیر محب اﷲ شاہ راشدی،پیر سید بدیع الدین شاہ راشدی،