کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 405
’’اہلِ حدیث کوئی نیا مسلک یا نیا مذہبی فرقہ نہیں ہے،بلکہ یہ اصل اسلام ہے جو آغاز سے چلا آ رہا ہے اور جس کے احکام پر ہم عمل پیرا ہیں،جن لوگوں کے عمل و عقیدہ کا قصرِ رفیع قرآن و حدیث کے نصوصِ قطعی کی بنیادوں پر استوار ہے اور جو دینی معاملات میں کتاب و سنت کو اصل مرجع قرار دیتے ہیں،انھیں اہلِ حدیث کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور وہ اہلِ سنت بھی کہلاتے ہیں۔‘‘
اسی کتاب ’’لقب اہلِ حدیث‘‘ کے مقدمہ کے آخر میں جناب گرامی قدر منزلت پروفیسر قاضی مقبول احمد رقم طراز ہیں:
’’اہلِ حدیث ہی کو یہ سعادت حاصل رہی ہے کہ وہ صحابہ کے اس نظریۂ اسلام کی حامل جماعت ہے کہ شرعی مسائل میں،خواہ ان کا تعلق عقائد سے ہو یا اعمال سے ہو،حاکمیتِ اعلیٰ صرف قرآن اور سنت کو حاصل ہے اور عقل و قیاس اس کے تابع ہیں،جو بھی اس اصول کو مانتا ہے،وہ اہلِ حدیث ہے،اگرچہ جزوی مسائل میں وہ اختلاف رکھتا ہو،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی یہی اصول تھا کہ وہ اہلِ حدیث تھے،جب تک یہ اصول زندہ رہے گا،اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے والے موجود رہیں گے،اس وقت تک اہلِ حدیث بھی زندہ و تابندہ رہیں گے،اہلِ حدیث ہی ایک زندہ حقیقت ہے،باقی سب بتانِ وہم و گماں ہیں۔‘‘
عزیز القدر رانا محمد شفیق خان صاحب نے کتبِ احادیث اور تواریخ کی رو سے ثابت کیا ہے کہ ’’لقب اہلِ حدیث‘‘ کی ابتدا عہدِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہو چکی تھی،صحابہ کرام،تابعین،تبع تابعین اور ائمہ کرام تمام اہلِ حدیث تھے،امام ابو حنیفہ کے