کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 404
وَسُنَّۃُ رَسُوْلِہِ )) پر یقین رکھتے ہیں،جیسا کہ سردارِ اہلِ حدیث مولانا ثناء اﷲ امرتسری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ہر مذہبی کام میں پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع فرض ہے،جس کام کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کیا ہو اور نہ کرنے کی اجازت فرمائی ہو،نہ اصولاً نہ فروعاً،وہ بدعت ہے،خواہ اس کا شیوع اس وقت تمام عالم میں ہو،خواہ حرمین شریفین میں ہو،خواہ اس کا موجد ہندی ہو یا حجازی،عربی ہو یا عجمی۔‘‘ (اہلِ حدیث کا مذہب) مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی لکھتے ہیں: ’’پیر سید عبدالقادر جیلانی ’’فتوح الغیب‘‘ میں فرماتے ہیں: قرآن و حدیث کو اپنے پیشِ نظر رکھو اور ان کو غور و تامل کے ساتھ دیکھو اور کسی کے قول سے دھوکا نہ کھانا۔‘‘ پیر صاحب اپنی مشہور تالیف ’’غنیۃ الطالبین‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’اہلِ بدعت کی کئی علامتیں ہیں،جن سے وہ پہچان لیے جاتے ہیں،ایک علامت ان کی اہلِ حدیث کی بدگوئی کرنا ہے۔‘‘ ہمیں پیر صاحب کے قول سے کہیں نظر نہیں آتا کہ آپ نے رتبۂ علم پر پہنچ کر کسی خاص امام کی تقلید کا اقرار کیا ہو،بلکہ آپ کی تصانیف میں خالص کتاب و سنت کی پیروی کی کئی عبارتیں پائی جاتی ہیں،جن سے صاف عیاں ہو جاتا ہے کہ آپ اہلِ حدیث مسلک کے حامل تھے۔زیرِ نظر ’’لقب اہلِ حدیث‘‘ کے ابتدائیہ میں ہمارے فاضل دوست مولانا محمد اسحاق بھٹی بھی حرفے چند کے تحت ارشاد فرماتے ہیں: