کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 403
جماعت کے قابلِ فخر خطیب اور دانشور مولانا رانا محمد شفیق خاں پسروری حدیثِ مبارک ’’اَلْوَلَدُ سِرٌّ لِأَبِیْہِ‘‘ کے مصداق اپنے والدِ گرامی کا نقش ہیں۔ان کی تقریر خطابت کا ایک حسن اور زورِ بیاں کے منظروں سے آراستہ ہوتی ہے،جس سے سامعین جھوم جھوم جاتے ہیں۔ان کے منفرد لب و لہجے اور آواز کی گھن گرج کے باعث یہ کہا جا سکتا ہے کہ چینیاں والی تاریخی مسجد کی مسند نشینی علامہ شہید کے بعد رانا صاحب ہی کو زیب دیتی ہے ع اﷲ کرے زورِ بیاں اور زیادہ رانا صاحب کی سحر انگیز خطابت کے ساتھ ساتھ اﷲ تعالیٰ نے انھیں صحافتی صلاحیتوں سے بھی خوب نوازا ہے۔ملک کے سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں رانا صاحب کی کالم نگاری ایک جزوِ لا ینفک ہے۔تصنیف و تالیف کی دنیا میں بھی رانا صاحب اپنے کسی ہم عصر سے پیچھے نہیں رہے۔حالاتِ حاضرہ کے ٹیکنالوجی کے ترقی پذیر دور کے تقاضوں اور پیش آمدہ نت نئے مسائل کے حل کے بارے میں ان کی گراں قدر علمی کتب اہلِ علم سے خراجِ تحسین حاصل کر چکی ہیں۔مزید برآں مسلک اہلِ حدیث کے امتیازی مسائل پر بیشتر تحقیقی تصانیف ان کے رشحاتِ قلم کا شاہکار ہیں۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ان کی نئی تالیف ’’لقب اہلِ حدیث‘‘ ایک خوب صورت اضافہ ہے،جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اہلِ حدیث وہ طبقۂ صادقین ہے جو براہِ راست کتاب اﷲ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سرچشمۂ ہدایت سمجھتے ہیں اور ان ہر دو سے براہِ راست استفادہ کرتے ہیں۔وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ گرامی: (( تَرَکْتُ فِیْکُمْ أَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا کِتَابُ اللّٰہِ