کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 400
کے نتیجے میں آپ برسرِ اقتدار آئے ہیں،اس لیے پہلے تحریک کے مقصد نظامِ مصطفی کا نفاذ کیجیے اور بعد میں انتخابات کرائیے،جب کہ ملک کی سبھی سیاسی جماعتیں زور و شور سے انتخاب انتخاب کی رٹ لگا رہی تھیں،مگر جب مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کی یہ قرارداد اور تجویز آئی کہ نظامِ مصطفی کا نفاذ اولین حیثیت رکھتا ہے تو اس آواز کے ساتھ دوسری مذہبی جماعتوں نے بھی اپنی آواز ملائی،اس طرح ملک میں نظامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کے لیے تگ و تاز کا ایک تہلکہ مچ گیا۔
چنانچہ جنرل ضیاء الحق نے علما کی آواز اور مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے راہنماؤں کی للکار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تمام مکاتبِ فکر کے نمایندہ علما کے کنونشن اسلام آباد میں منعقد کیے۔مولانا ظفر احمد انصاری کی سربراہی میں ایک انصاری کمیشن بھی بنایا گیا،جس نے دستوری سفارشات مرتب کر دیں،اس کمیشن کے مولانا لکھوی بھی ممبر تھے۔اسلامائزیشن کے کام ہی کے نتیجے میں کچھ پیش رفت ہوئی،جس کے تحت قادیانیت آرڈیننس،بیت المال اور عشر و زکات اور صلاۃ کا نظام اور وفاق المدارس کا نظام بروئے کار لائے گئے،لیکن برا ہو اندرونی و بیرونی سازشی اور باطل قوتوں کا،جنھوں نے نظامِ اسلام کی تکمیل کا مرحلہ نہ آنے دیا اور ایک سانحہ برپا کر کے جنرل ضیاء الحق سمیت جرنیلوں کو راستے سے ہٹا دیا۔تاہم جس قدر کام ہوا،اس میں ہمارے قائدین اور مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف کی مساعیِ حسنہ ناقابلِ فراموش ہیں۔
جمعیت کی اس سلسلے کی اب تک آخری کانفرنس 7,6 نومبر 2008ء کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہوئی،جس کے صدر استقبالیہ جمعیت کے ناظمِ اعلیٰ ڈاکٹر حافظ عبدالکریم تھے،جب کہ صدرِ کانفرنس امیرِ محترم علامہ ساجد میر تھے۔حافظ صاحب نے برصغیر میں اہلِ حدیث کی خدمات،تحریکوں میں کردار اور مرکزی