کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 40
کے ساتھ مولانا سید عبدالغنی شاہ اور حافظ محمد اسماعیل ذبیح،یہاں تک کہ مولانا محمد اسماعیل سلفی اور مولانا عبدالمجیدسوہدروی خطاب فرماتے رہے۔یہ ان دنوں کی باتیں ہیں،جب کہ ابھی شبان اہلِ حدیث بھی وجود میں نہیں آئی تھی۔ 1954 کے اواخر میں جب مولانا محمد صدیق تاندلیانوالہ سے لائل پور منتقل ہوئے تو 1955ء میں جمعیت شبان اہلِ حدیث کی تشکیل حافظ محمد اسماعیل ہی کے ایما پر عمل میں آئی۔’’شبان اہلِ حدیث‘‘ نام بھی انھوں نے ہی تجویز فرمایا تھا۔چند سالوں بعد ہمارے دوست مولانا محمد طیب معاذ جامع اہلِ حدیث محمد پورہ میں آ گئے۔انہی دنوں چیچہ وطنی کے ایک غالی قسم کے بریلوی نوجوان شیخ بشیر احمد لائل پور آئے تو میرے والد مرحوم کی تبلیغ و ترغیب سے وہ اہلِ حدیث ہوئے،ان کا نکاح بھی والد صاحب نے شیخ خاندان میں کرایا اور کاروباری حلقے میں ان کا تعارف کرایا۔ان دونوں حضرات کی شبان اہلِ حدیث میں شمولیت سے تنظیم میں ایک ولولۂ تازہ پیدا ہو گیا۔ اسلام نگر کے ماسٹر فتح محمد ہمارے سالار تھے۔اس طرح نوجوانوں کا جوش و جذبہ اور مسلک سے وارفتگی جس میں حضرت حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمہ اللہ کی سرپرستی اور تبلیغی طور پر فیصل آباد کو ان کی ترجیح سے کتاب و سنت کی دعوت و ارشاد کا سلسلہ بفضلہ تعالیٰ دن بدن بڑھتا چلا گیا اور شہر و مضافات میں مسلک اہلِ حدیث کی ایک دھوم مچ گئی۔اس زمانے میں اکثر تبلیغی اجلاسوں کے مقررین زیادہ تر حضرت حافظ صاحب اور مولانا محمد صدیق ہوا کرتے تھے۔ 1955ء میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کی سالانہ کانفرنس دھوبی گھاٹ کے میدان میں بڑی آب و تاب سے منعقد ہوئی تھی،جس کی صدارت مولانا سید محمد اسماعیل غزنوی نے فرمائی تھی اور صدرِ استقبالیہ مولانا محمد صدیق تھے،اسی موقع پر ایک