کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 399
نہایت آسان بیان و کلام کے ساتھ واضح فرمایا اور آخر میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کی ماضی قریب کی کارگزاریوں کا باحسن طریق تذکرہ فرمایا۔ گیارھویں سالانہ کانفرنس 14,13,12 اپریل 1979ء کو مینارِ پاکستان لاہور میں امیر جمعیت مولانا معین الدین لکھوی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔خطبۂ استقبالیہ لاہور ہائی کورٹ کے نامی گرامی وکیل چوہدری محمد صادق ایڈووکیٹ نے پڑھا،جس میں شہر لاہور کی تاریخی اہمیت،علمی و ادبی مقام اور مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کی تنظیم و تبلیغ کے سلسلے کی کارکردگی کا ذکر کیا اور ان کے ساتھ ہی جماعتی رسائل ’’الاعتصام‘‘،’’اہلِ حدیث‘‘ اور ’’الاسلام‘‘ کی اشاعتوں کو قابلِ قدر خدماتِ دینیہ قرار دیا۔امیر جمعیت مولانا لکھوی اور ناظمِ اعلیٰ میاں فضل حق کے کارِ خیر اور دینی جدوجہد کو بھی بسا غنیمت قرار دیا،جبکہ صرف دو اڑھائی ہفتوں میں فعال قیادت کی راہنمائی میں یہ عظیم الشان کانفرنس انعقاد پذیر ہو رہی ہے۔ حضرت مولانا معین الدین لکھوی کا خطبۂ صدارت بڑا روح پرور اور ایمان افروز تھا،انھوں نے مسلکِ اہلِ حدیث کی صداقت بیان کرتے ہوئے مسلکِ اہلِ حدیث کو اسلام کے ہم معنی لفظ قرار دیا۔اہلِ حدیث کی علمی و دینی اور سیاسی خدمات کا تذکرہ تفصیل سے کیا۔علمائے اسلاف میں سے اکثر کی خدماتِ جلیلہ اور ملک و ملت کے مفادات میں کیے گئے ان کے علمی و روحانی اور فلاحی و رفاعی کارناموں کو واضح فرمایا۔1953ء اور 74ء کی تحریکاتِ ختمِ نبوت میں سرِفہرست علمائے اہلِ حدیث کے کردار کو سراہا اور کچھ عرصہ قبل نظامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کی تحریک میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کی بے لوث خدمات اور قربانیوں کو یاد دلایا۔ انھوں نے آخر میں صدر جنرل ضیاء الحق سے مطالبہ کیا کہ تحریکِ نظامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم