کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 398
توفیقِ ایزدی حاصل تھی۔تقسیمِ ملک کے بعد مشہور عالمِ دین مولانا نیک محمد امرتسر سے ہجرت کر کے یہاں فروکش ہوئے،جنھوں نے امرتسر مدرسہ غزنویہ میں حضرت الامام عبدالجبار غزنوی کے بعد ان کی جانشینی کا حق ادا کیا۔‘‘
حافظ صاحب نے راولپنڈی میں قائم جامعہ تدریس القرآن والحدیث کا ذکر کیا،جس کے وہ خود شیخ الحدیث اور مولانا محمد عبداﷲ مظفر گڑھی دوسرے استاذ اور مسجد اہلِ حدیث صدر میں خطیب ہیں۔انھوں نے جماعتی بزرگوں مولانا محمد اسماعیل اور میاں فضل حق کا خاص طور پر ذکر کیا جو راولپنڈی کی جماعت کی دامے درمے سخنے اعانت فرماتے رہے ہیں۔نہ صرف یہاں،بلکہ آگے پہاڑی مقامات بالاکوٹ،مظفر آباد اور ایبٹ آباد وغیرہ اہم مقامات پر مساجد و مدارس کی تعمیرات میں کوشاں رہے ہیں۔
راولپنڈی کانفرنس کے ایک رات کے اجلاس کی صدارت مرکزی وزیرِ اطلاعات خواجہ شہاب الدین نے فرمائی تھی اور ان کی صدارت میں مولانا حافظ عبدالحق صدیقی اور علامہ احسان الٰہی ظہیر کی مسلکِ اہلِ حدیث کے زیرِ عنوان معرکہ آرا تقریریں ہوئی تھیں،جب کہ خطبۂ جمعہ پیر سید بدیع الدین شاہ راشدی آف سندھ نے ارشاد فرمایا تھا۔اس کانفرنس کی ایک اور تاریخی حیثیت بھی ہے کہ اتوار کی صبح اسلام آباد کی مرکزی مسجد اہلِ حدیث کی بنیاد امیر جمعیت حضرت حافظ محمد گوندلوی نے رکھی،کانفرنس میں آئے ہوئے علما و صلحا اور بہت سے لوگوں نے اس تقریب میں شرکت کی تھی۔ہمارے فاضل دوست مولانا عبدالعزیز حنیف حفظہ اللہ روزِ اول سے آج تک وہاں خطیب ہیں۔
راولپنڈی کی اس کانفرنس میں حضرت حافظ محمد گوندلوی نے جو خطبۂ صدارت پڑھا،وہ علمی گہرائی کے باوجود بڑا سلیس اور عام فہم تھا۔اختلافاتِ ائمہ،فقہی موشگافیاں اور تقلید و استنباطِ مسائل ایسے دقیق تدریسی مسائل کو حضرت حافظ صاحب نے