کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 397
کہ شیخ العرب والعجم میاں نذیر حسین دہلوی کی بھی کچھ یادیں اس شہر سے وابستہ ہیں۔میاں صاحب مرحوم 1866,65ء کے مشہور مقدمہ ’’بغاوت‘‘ کے سلسلے میں ایک سال تک راولپنڈی جیل میں نظر بند رہے تھے۔یہ وہی مقدمۂ بغاوت ہے جس میں ہندوستان کے اکثر شہروں: انبالہ،میرٹھ،پٹنہ وغیرہ کے اہلِ حدیث علما و زعما کو وہابی،یعنی باغی قرار دے کر حبسِ دوام بہ عبور دریائے شور کی سزا دی گئی تھی اور جس میں مولوی یحییٰ اور مولانا احمد اﷲ صادق پوری جیسے جید علما اور پاکباز مجاہد ’’وہابیت‘‘ کے جرم میں انگریزی حکومت کی ستم رانی کا شکار ہوئے اور جنھوں نے بالآخر جزائر انڈیمان میں وفات پائی۔حضرت میاں صاحب پر کوئی الزام ثابت نہ کیا جا سکا،اس لیے وہ ایک سال کی نظر بندی کے بعد رہا کر دیے گئے۔
حضرات! راولپنڈی اور گرد و نواح کے لوگ شجاع و بہادر اور سپاہیانہ اوصاف کے حامل ہیں،لیکن یہ بھی افسوسناک حقیقت ہے کہ اکثریت شرک و بدعات کی تاریکیوں میں گم رہی ہے،لیکن راولپنڈی میں توحید و سنت کی اشاعت کے لیے ایسے افراد پیدا ہوتے رہے،جن کی حق گوئی کی داستانیں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔اس سلسلے میں حافظ عبدالہادی جو نابینا عالمِ دین تھے،جنھوں نے آج سے برسوں قبل چھوٹی سی مسجد اہلِ حدیث میں وعظ و ارشاد کا سلسلہ شروع کیا۔آج وہ جامع مسجد اہلِ حدیث وسعت پذیر ہے۔یہاں دوسرے بڑے مبلغ مولانا قاضی عبدالاحد خانپوری تھے،جنھیں حق بات کہنے اور قلمی جہاد کرنے میں بڑی