کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 396
جماعت اہلِ حدیث کی ہر نقل و حرکت،ان کا ہر قول و فعل اور ان کی عبادات و معاملات بس ایک ہی محور کے گرد گھوم رہے ہیں،یعنی ہر بات اور ہر معاملے میں ان کی نظر کتاب و سنت پر رہتی ہے اور ان ہر دو سرچشموں کے مخالف جو بات بھی ہو،چاہے وہ دنیا کی بڑی سے بڑی ہستی سے مل رہی ہو،اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے،شاعر کی زبان میں ع اصل دیں آمد کلام اﷲ معظم داشتن پس حدیثِ مصطفی بر جان مسلم داشتن صدرِ کانفرنس پیر محب اﷲ شاہ نے صدارتی خطبے میں اہلِ حدیث کے منہج اور طرزِ عمل و کردار کا ذکر کرنے کے بعد مرکزی جمعیت کے منصوبہ جات خصوصاً جامعہ سلفیہ کے نصاب کی تعریف کی،جس میں کتاب و سنت کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ مروجہ علومِ حاضرہ: تاریخ،جغرافیہ،حساب،انگریزی وغیرہ کا بھی انتظام ہے،گویا یہ ادارہ مجمع البحرین ہے،اس سے زیادہ الفاظ میں مشرقی و مغربی علوم کا جامع ہے۔ b مرکزی جمعیت کی دسویں سالانہ کانفرنس راولپنڈی میں 29,28,27 ستمبر 1968ء کو حضرت حافظ محمد گوندلوی کی صدارت میں منعقد ہوئی،جس کے صدر استقبالیہ جماعت کے معروف اور دلنشین خطیب مولانا حافظ محمد اسماعیل ذبیح تھے۔وہ مرکزی جمعیت کے ناظمِ تعلیمات بھی رہے اور جامع مسجد اہلِ حدیث راولپنڈی کے خطیبِ شہیر بھی تھے،انھوں نے خطبے کے آغاز میں راولپنڈی شہر کی تاریخی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا: ’’سرحد پار جا کر انگریزوں کے ساتھ مصروفِ جہاد ہونے والے ہمارے اسلاف کے لیے یہ شہر پڑاؤ کا کام دیتا تھا۔مزید قابلِ ذکر بات یہ ہے