کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 395
فرمایا تھا: ’’علیکم بالجماعۃ والسمع والطاعۃ‘‘ اس میں پہلی چیز انفرادیت کو ختم کر کے جماعت بن کر زندہ رہنے کا حکم ہے،اس کے بعد دوسری دو چیزیں ’’سمع و طاعت‘‘ تو ایمان کا حکم رکھتی ہیں اور باقی ’’ہجرت و جہاد‘‘ اسلامی زندگی کا پورا پورا پروگرام ہے۔’’علیکم بالجماعۃ‘‘ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا زور دیا کہ دو یا دو سے زیادہ مسلمان کسی سفر پر نکلیں،چاہے اس سفر کی کیفیت کچھ بھی ہو،وہ جماعت ہیں،ان میں سے ایک کو امیر ہونا چاہیے،باقیوں پر ہر نیک کام میں اس کی اطاعت فرض ہے۔یہاں تک وضاحت فرما دی کہ جس کو امیر بنایا گیا،اس کی ظاہری حیثیت کیسی ہو،معمولی کیوں نہ ہو،اس کی اطاعت لازمی ہے۔‘‘ انھوں نے مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے نظام،جامعہ سلفیہ کی مثالی کار گزاری اور اصلاح و تبلیغ اور اشاعتی اداروں کے کام کو سراہا،ان میں مشنری اداروں کی طرح تمام کاموں کو مربوط و مضبوط پیمانے پر آگے بڑھا کر دینی فریضہ ادا کرنا چاہیے۔اس سلسلے میں ان کی بعض تجاویز و آرا بڑی صائب اور غور و فکر کی دعوت دیتی تھیں۔ مرکزی جمعیت کی نویں سالانہ کانفرنس 5,4,3 نومبر 1967ء کو لاہور باغ بیرون موچی دروازہ منعقد ہوئی،جس کی صدارت حضرت پیر سید محب اﷲ شاہ راشدی پیر آف جھنڈا نے فرمائی اور خطبۂ استقبالیہ مولانا محمد حنیف ندوی نے پیش کیا۔انھوں نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ’’اہلِ حدیث کا تصورِ دینی بے حد سادہ،سمجھ میں آنے والا اور قلب و روح کو حرارت و تپش عطا کرنے والا ہے،مگر یار لوگوں نے اتنا ہی اسے الجھا دیا ہے اور اس کے بارے میں غلط فہمیوں کو پھیلاتے رہتے ہیں۔حالانکہ