کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 394
میں ٹوٹی صفوں پر بیٹھ کر قال اﷲ اور قال الرسول کا درس دیتے نظر آئیں گے۔لکھوی روپڑی،غزنوی اور ثنائی سرچشمہ سے مستفید ہونے والوں کی تعداد شمار سے باہر ہے۔1947ء کے ہنگاموں میں ہمارا بہت سا نقصان ہوا،جس کی تلافی ناممکن ہے،تاہم مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کی کاوشیں لائقِ صد تحسین ہیں،جو اپنے اسلاف کی راہوں پر چل کر اشاعت و تبلیغِ کتاب و سنت میں مختلف طریقوں سے سرگرم ہیں۔‘‘
آٹھویں سالانہ کانفرنس 4,3,2 اپریل 1965ء کو سیالکوٹ میں منعقد ہوئی،جس کے صدر استقبالیہ شیخ محمد شفیع سیٹھی تھے،اس مخلص ترین بزرگ نے شرکائے کانفرنس کی آمد پر ان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا اور سیالکوٹ کو بڑا مردم خیز خطہ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر علامہ اقبال،علامہ عبدالحکیم،مولانا محمد ابراہیم میر،مولانا ظفر علی خان اور حافظ عبدالمنان وزیر آبادی کا تذکرہ کیا اور مختلف تحریکوں میں ان کے سرِفہرست کردار کو بیان کیا۔خطبۂ صدارت مولانا محی الدین قصوری نے ارشاد فرمایا،جو برصغیر کے مشہور عالمِ دین اور سیاسی راہنما مولانا عبدالقادر قصوری کے صاحب زادے تھے۔انھوں نے کلکتہ جا کر مولانا ابوالکلام آزاد کی راہنمائی میں علمی و ادبی دنیا میں نام پیدا کیا۔مولانا ابو الکلام آزاد نے مولانا محی الدین قصوری کا ذکر اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’تذکرہ‘‘ میں بھی کیا ہے۔ہمارے ممدوح مولانا محی الدین قصوری مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے پہلے ناظمِ تعلیمات بھی رہے تھے۔
انھوں نے صدارتی خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے ابتدا میں کہا:
’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے،جبکہ دنیا ضلالتوں اور اندھیروں میں گم تھی،