کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 393
تھیں،یہ تمام تر انتظامات شہر کے تاجر طبقہ اور نوجوانوں نے بخوبی سرانجام دیے۔
ساتویں سالانکہ کانفرنس 4,3,2 نومبر 1962ء کو خان بہادر مولوی عبدالعزیز چیف جسٹس ریاست فرید کوٹ کے زیرِ صدارت باغ بیرون موچی دروازہ لاہور منعقد ہوئی۔صدر استقبالیہ حاجی محمد اسحاق حنیف (ناظم نشر و اشاعت) نے پیش کیا۔انھوں نے جماعتی احباب کو احساس دلایا کہ گذشتہ چودہ برسوں میں مولانا غزنوی اور مولانا سلفی کی قیادت میں جماعت نے بہت سا علمی تنظیمی کام کیا ہے،جس پر فخر کیا جا سکتا ہے،لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔’’الاعتصام‘‘ جماعتی پرچے کی اشاعت اور ضروریات کو بڑھانا ہے۔تبلیغی سلسلے کو فروغ دینا ہے اور جامعہ سلفیہ کے منصوبے کو ہر لحاظ سے سرِ فہرست رکھ کر بڑی منصوبہ بندی سے مکمل کرنا ہے۔اگرچہ جامعہ میں اعلیٰ پیمانے پر درس و تدریس جاری ہے اور وقت کے جلیل القدر علما مسندِ تدریس پر فائز ہیں،لیکن اسے ایک مرکزی دانش گاہ کی شکل دینے میں آپ سب کی توانائیاں اور کوششیں درکار ہیں،آگے بڑھیے اور دامے درمے سخنے اس کارِ خیر میں حصہ ڈالیے۔
خان بہادر مولوی عبدالعزیز نے صدارتی خطبے میں سابقہ کانفرنسوں کے اہلِ علم صدور کا ذکر کرتے ہوئے اپنی کم علمی کو ناموزوں قرار دیا اور جماعتی اکابر کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے مجھے یہ اعزاز بخشا۔انھوں نے کہا:
’’مسلکِ اہلِ حدیث دینِ حق کی پہچان ہے اور اہلِ حدیث کا نصب العین اسوۂ حسنہ کی اتباع اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے،اہلِ حدیث کی تاریخ بڑی تابناک ہے۔اگر آپ اپنے ماضی کو دیکھیں تو آپ کی نگاہ ایسے مقامات پر پڑے گی جہاں بہت سے باعمل علما بے سروسامانی کی حالت