کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 392
صدرِ کانفرنس مولانا سید محمد داود غزنوی کا خطبۂ صدارت بے حد جامع،علمی اور مسلکی اعتبار سے مدلل و ایمان افروز تھا۔مولانا غزنوی نے یادِ رفتگاں کے طور پر مولانا ابو الکلام آزاد کی حال ہی میں وفات اور ان سے قبل مولانا ثناء اﷲ امرتسری کے سانحۂ ارتحال کا ذکر کیا تو ان کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں،یہاں تک کہ ان کی ہچکی بندھ گئی۔مولانا علیہ الرحمہ نے دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے صحابہ کرام،تابعینِ عظام،ائمہ کرام اور محدثین کرام کی خدمات کا تفصیل سے ذکر کیا اور پھر جماعت کو احساس دلایا کہ آپ لوگوں نے پاکستان بنانے میں جس جوش و جذبے سے کام لیا اور تحریکِ پاکستان میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دیں،ان کو ثمر آور بنانے میں یہاں اسلامی معاشرے کا قیام عمل میں لانے کے لیے اسی تندہی اور شب و روز ایک کر دینے کی ضرورت ہے۔اسی منزل کے حصول کے لیے مرکزی جمعیت اہلِ حدیث بحمد اﷲ سرگرمِ عمل ہے۔ چھٹی سالانہ کانفرنس 3,2,1 اپریل 1960ء کو پتوکی ضلع قصور میں منعقد ہونا تھی،لیکن مارشل لاء حکام نے عین ایک روز قبل،جبکہ تمام انتظامات مکمل ہو چکے تھے،کانفرنس روک دی،چنانچہ اگلے سال 20,21,22, اکتوبر 1961ء کو جامع سلفیہ میں یہ کانفرنس منعقد ہوئی،جس کی صدارت حاجی محمد یعقوب فضل ربی ریڈیو آف کراچی نے فرمائی اور خطبۂ استقبالیہ مولانا محمد صدیق نے بطور صدر استقبالیہ ارشاد فرمایا،جو ان سطور کے راقم ہی نے انھیں لکھ کر دیا تھا۔راقم الحروف نے بحیثیت ناظم استقبالیہ اپنے ’’شبان اہلِ حدیث‘‘ کے رفقا سمیت کانفرنس کے جملہ انتظامات اعلیٰ پیمانے پر کیے،کیوں کہ اس زمانے میں نہ تو جامعہ میں اس قدر طلبا کی تعداد تھی اور نہ ہی گرد و نواح میں اشیائے ضرورت مہیا