کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 391
علما نے دھواں دھار انداز میں تائیدی تقریریں کیں جنھیں ملکی سطح پر اگلے روز نمایاں سرخیوں کے ساتھ شائع کیا گیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریباً تمام دینی جماعتوں اور بیشتر سیاسی جماعتوں نے بھی اس قرارداد کی تائید و حمایت کی۔یہی وجہ تھی کہ 1956ء کے آئین میں جداگانہ انتخابات کرانے کی ترمیم کی گئی،لیکن افسوس کہ انتخابات کا انعقاد نہ ہو سکا اور کئی محلاتی سازشوں کے بعد 1958ء میں جنرل ایوب خان نے مارشل لاء لگا دیا۔اگر انتخابات ہو جاتے تو ملکی جغرافیہ اور دینی اقدار کی وہ حالت نہ ہوتی جو بدقسمتی سے ملک کا مقدر بن گئی۔
پانچویں کانفرنس 16,15,14 مارچ 1958ء کو مولانا سید محمد داود غزنوی کی صدارت میں کمپنی باغ سرگودھا میں منعقد ہوئی،جس کا خطبۂ استقبالیہ مولانا رضاء اﷲ ثنائی نے ارشاد فرمایا،جو مولانا ثناء اﷲ امرتسری کے پوتے اور بڑے وضع دار،خوب صورت جسم و جان اور وجیہ شکل و صورت رکھتے تھے۔انھوں نے اپنے خطبے میں تقسیمِ ملک سے قبل سرگودھا کی مسلکی،علمی شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے 1947ء کے انقلاب کو نہایت مفید قرار دیا۔مہاجرین کی اکثریت مسلکِ اہلِ حدیث کی حامل تھی اور پھر سردارِ اہلِ حدیث حضرت مولانا ثناء اﷲ کی یہاں آمد سے جماعت کا حوصلہ مزید بڑھا،لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا،مولانا ثناء اﷲ امرتسری 1948ء میں وفات پا گئے،لیکن وہ زندگی کے آخری ایام میں عالی شان جامع مسجد اہلِ حدیث کا قیام عمل میں لائے،جس کی برکت سے دن بہ دن جماعت منظم صورت میں آگے بڑھتی چلی گئی۔انھوں نے اپنے خطبے کے آخر میں جماعتی تنظیم کے سلسلے میں مولانا غزنوی اور مولانا محمد اسماعیل سلفی کی جدوجہد کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔