کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 390
کا اسلام کی سربلندی کے لیے جہادی عظیم کردار،1857ء کے بعد اہلِ حدیث زعما پر انگریزی مظالم،بعدہ شیخ الکل میاں نذیر حسین اور ان کے مقتدر شاگردوں مولانا عبدالجبار غزنوی،مولانا حافظ عبدالمنان وزیر آبادی،مولانا محمد بشیر سہسوانی،حافظ عبداﷲ غازی پوری،مولانا شمس الحق ڈیانوی،مولانا عبدالرحمان مبارکپوری اور اسی سلسلے میں نواب صدیق حسن کی خدماتِ علمیہ جلیلہ،خاندانِ لکھویہ کے سربراہان اور ان کے بلند مرتبت تلامذہ کا چشمِ نم تذکرہ کیا۔کانفرنس کو ہر اعتبار سے کامیاب بنانے میں گوجرانوالہ کے ممتاز تاجروں کی کوششوں کو سراہا۔ علامہ خلیل عرب نے خطبۂ صدارت میں مسلکِ اہلِ حدیث کی صداقت اور فقہی اختلافات کا تذکرہ کرتے ہوئے مسلکِ اہلِ حدیث کی امتیازیت اور مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کی ترقیات اور تنظیمی طور پر اسے آگے بڑھانے کے لیے بڑی صائب تجاویز پیش فرمائیں۔ اس کانفرنس کی ایک خوبی یہ تھی کہ خواتین کانفرنس کا بھی الگ پنڈال کی صورت میں اہتمام کیا گیا تھا،جس کی صدارت علامہ موصوف کی صاحب زادی محترمہ عطیہ خلیل عرب نے فرمائی۔ یہ عظیم الشان کانفرنس اس اہمیت کی بھی حامل رہی کہ 1956ء کے آئین کے تحت مرکزی وزیراعظم چوہدری محمد علی انتخابات کرانے والے تھے،ملک میں یہ مسئلہ زیرِ بحث تھا کہ جداگانہ بنیادوں پر یا مخلوط طور پر یہ انتخابات ہوں۔مرکزی جمعیت کی اس کانفرنس میں مولانا حافظ محمد اسماعیل ذبیح نے مولانا غزنوی کے حکم سے یہ قرارداد پیش کی کہ آیندہ ملکی انتخابات جداگانہ بنیادوں پر ہونے چاہئیں۔مولانا سید محمد داود غزنوی،مولانا محمد اسماعیل سلفی اور مولانا عبدالمجید سوہدروی جیسے اکابر اور عالی قدر