کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 389
مخصوص ذوقِ ظرافت سے سنایا،جس سے پورا پنڈال کشتِ زعفران بنا رہا۔خطبے میں تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے سیاسی و دینی احوال،قرادادِ مقاصد،نظامِ اسلام کے نفاذ کی مرکزی جمعیت کی تگ و تاز کا خاص طور پر ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان کے مسلمان اُن مواعید کو ہر گز فراموش نہیں کر سکتے جو قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان جیسے دوسرے اکابرِ قوم نے پاکستان کی اساسی اینٹ رکھتے وقت ان سے کیے تھے۔
یہ کانفرنس اس لحاظ سے جماعتی تاریخ میں خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ اس مبارک موقع پر مرکزی ادارہ جامعہ سلفیہ کی بنیاد رکھی گئی،جن ہاتھوں سے یہ تقریبِ سعید انعقاد پذیر ہوئی،ان میں فیصل آباد کے بزرگ دینی و سیاسی راہنما حکیم نور الدین،مولانا عبدالواحد،میاں محمد باقر،صوفی محمد عبداﷲ،مولانا محمد بخش کوموی،مولانا سید محمد داود غزنوی،مولانا اسماعیل سلفی،مولانا عطاء اﷲ حنیف بھوجیانی،مولانا حنیف ندوی اور مولانا معین الدین لکھوی و دیگر علما و صلحا تشریف فرما تھے۔میری یہ سعادت ہے کہ اس بابرکت لمحات میں والد علیہ الرحمہ کے ہمراہ میں بھی ان پاکباز شخصیات کے قدموں میں تھا۔
مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کی چوتھی سالانہ کانفرنس 14،13،12 اکتوبر 1956ء کو شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں منعقد ہوئی،جس کی صدارت علامہ خلیل عرب نے فرمائی۔جمعیت کے مرکزی ناظمِ اعلیٰ مولانا محمد اسماعیل سلفی نے خطبۂ استقبالیہ ارشاد فرمایا۔بقول مولانا محمد اسحاق بھٹی،مولانا محمد اسماعیل علم و عمل اور جماعتی خدمات کے اعتبار سے ممتاز حیثیت کے مالک تھے۔خطبے میں مولانا علیہ الرحمہ نے گوجرانوالہ شہر کے نام کی وجہ تسمیہ،سیاسی و تاریخی صورتِ حال اور پھر تاریخِ اہلِ حدیث کی خاص خاص جھلکیں،سید احمد شہید،شاہ محمد اسماعیل شہید