کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 388
جس کا مطلب یہی سمجھا جائے گا کہ پاکستان کا مستقبل لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا جو کتاب و سنت کے علمبردار ہوں گے۔بحمد اﷲ مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کا نصب العین کتاب و سنت کی نہ صرف تبلیغ و اشاعت،بلکہ یہاں اسلام کے مکمل نظامِ حیات کے نفاذ کا عملی اقدام ہے۔‘‘ b تیسری کانفرنس 4,3 اپریل 1955ء کو دھوبی گھاٹ فیصل آباد کے وسیع و عریض میدان میں منعقد ہوئی،جس کا خطبۂ استقبالیہ جماعت کے نامور اور شعلہ نوا مقرر و مناظر مولانا محمد صدیق نے پڑھا اور خطبۂ صدارت حضرت مولانا محمد اسماعیل غزنوی نے ارشاد فرمایا۔مولانا محمد صدیق نے خطبۂ استقبالیہ میں فیصل آباد شہر کی اہمیت،اس کی صنعتی و حرفتی حیثیت،زرعی یونیورسٹی جو عالمی سطح کی درسگاہ ہے،نیز دینی اداروں: مدرسہ تعلیم القرآن اوڈانوالہ،زیرِ سرپرستی حضرت صوفی محمد عبداﷲ اور جھوک دادو تاندلیانوالہ میں تقویٰ شعار بزرگ میاں محمد باقر کی زیرِ سرپرستی مدرسہ خادم القرآن والحدیث اور شہر میں شیخ الحدیث مولانا محمد عبداﷲ ویرووالوی کی سرپرستی میں کلیہ دار القرآن والحدیث کا تذکرہ بڑی خوب صورتی سے کیا۔مرکزی جامع مسجد اہلِ حدیث کی بنیاد تقسیمِ ملک سے سات سال قبل حضرت مولانا ثناء اﷲ امرتسری نے رکھی اور اس کی تعمیر و ترقی میں مولانا عبدالواحد کا امتیازی کردار بیان کیا۔شہری اور ضلعی جمعیت اہلِ حدیث کے راہنماؤں: مولانا محمد اسحاق چیمہ،مولانا عبیداﷲ احرار،مولانا عبداﷲ ثانی امرتسری،مولانا علی محمد صمصام،مولانا محمد ابراہیم خادم اور مولانا اﷲ بخش کمیر پوری کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ مولانا محمد اسماعیل غزنوی نے اپنی علالت کے باعث خطبۂ صدارت کی چند سطریں پڑھیں اور باقی پورا خطبہ ان کے قریبی ساتھی علامہ حسین میر کاشمیری نے اپنے