کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 387
آخر میں انھوں نے فرمایا:
پس آپ اجتماعی قیادت اور منظم صورت میں ملکِ خدادادِ پاکستان کی حفاظت کے لیے،جو بلا قیل و قال حفاظتِ اسلام و قوم مسلمین ہے،تیاری پکڑ لیں،تاکہ تمام پاکستان کے اہلِ حدیث کی ایک آواز،ایک قرارداد اور ایک کام ہو۔‘‘
مرکزی جمعیت کی دوسری سالانہ کانفرنس 4,3,2 اپریل 1954ء کو ملتان میں منعقد ہوئی،جس کی صدارت مولانا محمد علی قصوری نے فرمائی۔پہلی اور دوسری کانفرنس کا وقفہ جماعتی تنظیم کو آگے بڑھانے اور ملک کے اطراف و اکناف میں ضلعی و شہری نظم کے قیام اور 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کے پس منظر میں گزر گیا۔اس کانفرنس میں ناظمِ اعلیٰ مولانا محمد اسماعیل تحریکِ ختمِ نبوت میں گرفتاری اور طویل عرصہ جیل میں قید و بند کے باعث شرکت نہ کر سکے۔اس کانفرنس کے استقبالیہ کے صدر استاذی المکرم مولانا محمد اسحاق چیمہ نے خطبۂ صدارت میں ملتان کی دیرینہ تاریخی حیثیت اور وہاں مسلکِ اہلِ حدیث کی ترویج میں مولانا عبدالتواب ملتانی اور مولانا عبدالعزیز ملتانی اور مولانا سلطان محمود کی علمی و تدریسی خدمات کی روداد تفصیل سے بیان فرمائی اور شرکائے کانفرنس کا انجمن اہلِ حدیث ملتان اور مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ملتان کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔
مولانا محمد علی نے خطبۂ استقبالیہ ارشاد فرماتے ہوئے قیامِ پاکستان کا اصل محرک بیان کرتے ہوئے کہا:
’’اسلامی حکومت کے قیام کا یہاں موقع فراہم ہو گا،جس کی قراردادِ مقاصد نے توثیق بھی کر دی کہ پاکستان کا آیندہ نظام کتاب و سنت پر مبنی ہو گا،