کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 386
مولانا سیالکوٹی نے تقسیمِ ملک کے احوال اور مسلم لیگ کی تگ و تاز کا مقصد ذکر کرتے ہوئے آخر میں سامعین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا: ’’میرے پیارے بھائیو! میں آپ کو ایک بھولا ہوا سبق آپ کے دو بزرگوں کی مثال سے یاد کراتا ہوں،اس کی بنا محض حسنِ عقیدت اور فرطِ محبت پر نہیں ہے،حقیقت واقعی ہے کہ میں اپنے علم میں اس ملکِ ہند میں علمی قابلیت میں حضرت شاہ اسماعیل شہید کے بعد ان کے رتبے کا اور کوئی عالم نہیں پاتا،اسی طرح پہلے میں،جہاں تک میرا مطالعہ ہے،جامعیتِ علوم میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے برابر کسی کو نہیں پاتا۔اب میں جماعت اہلِ حدیث کے علما،امرا اور عوام سے سوال کرتا ہوں کہ آپ کو ان دونوں بزرگوں سے حسنِ عقیدت ہے یا نہیں ہے؟ اس موقع پر میں اپنی قوم اور اپنے شہر سیالکوٹ،بلکہ اپنے ملک کے فخر ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم کا ایک قول ذکر کرنے سے رک نہیں سکتا،مجھ سے ملاقات میں ہندوستان کے سیاسی حالات کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی،اسی اثنا میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا: ’’اگر مولانا اسماعیل شہید کے بعد ان کے کینڈے کا ایک اور مولوی بھی پیدا ہو جاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان اس ذلت کی زندگی میں نہ ہوتے۔‘‘ بے شک ڈاکٹر صاحب موصوف نے سچ فرمایا کہ مولانا شہید کے بعد ان کی طرز کا کوئی عالم پیدا نہیں ہوا،لیکن خدا کے فضل سے ان کے لگائے ہوئے پودے بے ثمر بھی نہیں رہے۔آج اس ملک میں جس قدر بھی اعلائے کلمۃ اﷲ کی جدوجہد جاری ہے،وہ آپ ہی کے نعرۂ حق کے اثر سے ہے۔‘‘