کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 384
ابراہیم میر سیالکوٹی نے ارشاد فرمایا۔انھوں نے ابتدا میں اپنی پیرانہ سالی،جسمانی ضعف کا ہلکا سا ذکر کرتے ہوئے احباب و رفقائے کرام کا شکریہ ادا کیا،جنھوں نے کانفرنس کی صدارت کا بارِ گراں ان کے کندھوں پر ڈال دیا،بعد ازاں انھوں نے مسلکِ اہلِ حدیث کی حقانیت کو واضح کرتے ہوئے کہا: ’’ملکِ ہند میں خالص کتاب و سنت کی اتباع کی تخم ریزی نہایت حکیمانہ روش سے شاہ ولی اﷲ کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی،جس کی آبیاری ان کے پوتوں خصوصاً شاہ محمد اسماعیل شہید نے سیاہی اور خون دے کر کی اور پھر اس فصل کی کٹائی اور خرمن اندوزی شاہ ولی اﷲ کے خاندان کے فیوضِ علمیہ کے وارث سید نذیر حسین نے کی،جنھوں نے تصنیف کے بجائے تدریس کو اپنا شغل بنایا۔اشاعتِ علم کے یہی دو طریقے ہیں،لیکن تدریس میں صحتِ علم کا جو فائدہ ہے وہ اس سے مخصوص ہے۔مدرس نہ ہو تو کتابیں کون پڑھائے اور صحیح و غلط کی تمییز کون کرے۔اﷲ تعالیٰ نے تدریسِ حدیث میں حضرت میاں صاحب مرحوم کی ایک اکیلی جان کو وہ توفیق بخشی اور آپ کے انفاسِ طیبہ میں وہ برکت عطا کی کہ دوسری منظم جماعتوں سے یہ کام اس انداز سے نہ ہو سکا۔حضرت میاں صاحب مرحوم کے شاگردوں کی تعداد اس کثرت سے ہو گئی کہ قال اﷲ اور قال الرسول کا غلغلہ ہر گھر میں ہونے لگا اور شاگردانِ رشید کی یہی کثرت جماعتی زندگی کی داعی ہوئی۔‘‘ انھوں نے کہا: ’’اگرچہ 1857ء کے ہنگامے میں اہلِ حدیث کے جماعتی نظام کو ایک