کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 373
کا وجود نہ تھا اور اس دورِ مبارک کے مسلمانوں کا طریقہ صرف عمل بالحدیث تھا،انھوں نے حجۃ اﷲ البالغہ کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ ولی اﷲ کا فرمان ذکر کیا ہے: ’’لوگ چوتھی صدی ہجری سے پیشتر کسی خاص مذہب کی تقلید پر جمع نہ تھے۔‘‘ آگے چلتے ہوئے انھوں نے توحید و سنت کے مقابلے میں شرک و بدعات اور غلط رسومات کے نتیجے میں امت کے فرقوں میں تقسیم ہو جانے کی افسوس ناک روش کا تذکرہ کیا ہے۔ان منتشر حالات میں مسلک اہلِ حدیث کو صراطِ مستقیم قرار دیتے ہوئے اہلِ حدیث کا سنتِ نبوی کے ساتھ تمسک،یہاں تک کہ آمین بالجہر،فاتحہ خلف الامام،رفع الیدین اور نمازِ تراویح جیسی سنتوں پر عمل پیرا ہونے سے مقلدین کی طرف سے طعن و تشنیع اور مقدمات تک قائم کیے جانے اور بہت سی دوسری کٹھن آزمایشوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔جلد دوم میں زیادہ تر غلط فتوؤں کے سبب مخالفین کے جبر و تشدد اور اخراج عن المساجد جیسی ابتلاؤں اور اذیتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ان کشیدہ اور پریشان کن زمانے میں ہمارے اسلاف نے جس عزیمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے،اسے پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ ہم تو ان پاکبازوں کے مارے ہوئے شکار کھا رہے ہیں،جنھوں نے بے سروسامانی کے باوجود قرآن و سنت کی تبلیغ و دعوت کی راہ میں مشکلات و مصائب کو آڑے نہ آنے دیا،ان میں سے بعض نے تو اپنے مجاہدانہ کردار پر قید و بند کی صعوبتیں ہی برداشت نہیں کیں،بلکہ کالے پانی کی سزائیں بھی جھیلیں۔ ڈاکٹر صاحب نے حوالہ جات کے ساتھ ایسے المیے کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ مقلدین نے اپنے فقہی مذاہب کی تائید میں قرآن مجید کی آیات اور صحاح ستہ کی بیشتر روایات میں تحریف و تاویل جیسی جسارتوں سے بھی گریز نہیں کیا،اسی وجہ سے اقبال نے کہا ہے ع