کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 363
یوں بھاگا کہ جیسے بھاگنے کا حق ہوتا ہے۔گویا دشمن کے فوجی ایسی دلیری سے بھاگے کہ اپنے جوتے اور وردیاں تک کھیم کرن کی بیرکوں میں چھوڑ گئے،ان کے چھوڑے ہوئے ہتھیار اور گاڑیاں ان کی ’’بلند ہمتی‘‘ اور ’’اولو العزمی‘‘ کی عکاسی کر رہی تھیں۔
انھوں نے افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے جانباز دفاعِ وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا باعثِ صد افتخار سمجھتے ہیں۔انھوں نے جنگِ بدر اور جنگِ خندق کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں بہادری اور جراَت کے جو کارنامے انجام دیے گئے اور قربانی کا جو جذبہ قوم میں دیکھنے میں آیا،اس جذبۂ جہاد کو زندہ رکھنا اور قائم رکھنا چاہیے۔
سید صاحب کے ایمان افروز خطاب کے بعد جماعت کے شعلہ نوا اور دلیر خطیب مولانا حافظ عبدالحق صدیقی نے نہایت پرجوش اور دھواں دھار تقریر کرتے ہوئے کہا کہ 65ء کی جنگ میں پاکستانی قوم نے اپنی جانثار افواج کے شانہ بشانہ ملکی سرحدوں کا دفاع کیا اور دنیا کو باور کرایا کہ ہم ایک باوقار قوم ہیں۔بلاشبہہ یہ ایک ایسا معرکہ تھا،جس میں ہمیں اپنے سے کہیں زیادہ عددی برتری والے دشمن سے مقابلہ کرنا تھا،ان دنوں پوری قوم میں ایک ایسا وحدتِ ملی کا جذبہ اجاگر تھا،جس نے ہماری افواج کو دشمن کے مدِ مقابل سیسہ پلائی دیوار بنا دیا اور پھر برّی افواج کے ساتھ ہمارے شاہینوں نے پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ معیار قائم کیے،جس نے دشمن کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔یہاں انھوں نے علامہ اقبال کے یہ اشعار پڑھے ع
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے جنھیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا سمٹ کر پہاڑ ان کی ہمت سے رائی
آخر میں خطیبِ پاکستان مولانا محمد حسین شیخوپوری نے شیریں بیان خطابت اور