کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 351
مفتی زین العابدین،مولانا عبدالرحیم اشرف،مولانا تاج محمود،مولانا صاحبزادہ افتخار الحسن،مولانا محمد صدیق،مولانا محمد اسحاق چیمہ،مولانا محمد شریف اشرف اور راقم الحروف شامل تھے۔صاحب زادہ افتخار الحسن بیماری کے باعث نہ جا سکے۔
بنا بریں چناب ایکسپریس سے پنڈی جانے کے لیے سات ٹکٹیں سیکنڈ کلاس کی خریدی گئیں۔اسٹیشن سے روانگی سے پہلے مولانا محمد اسحاق چیمہ نے فرمایا کہ ہم ساتوں کو بذریعہ ٹرین نہیں جانا چاہیے،کیوں کہ راستے میں سب کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے،بہتر ہو گا کہ کچھ حضرات بذریعہ روڈ سفر کریں۔اس تجویز پر بزرگ علما مفتی زین العابدین،مولانا عبدالرحیم اشرف،مولانا تاج محمود اور مولانا محمد اسحاق چیمہ ٹرین سے اور مولانا محمد صدیق اور مولانا محمد شریف اشرف اور راقم السطور کار سے عازمِ پنڈی ہوئے۔
مولانا چیمہ صاحب کی سیاسی بصیرت اور خدشات صحیح نکلے۔چاروں بزرگوں کو پولیس نے لالہ موسیٰ اسٹیشن پر اتار کر گرفتار کر لیا،لیکن بذریعہ روڈ جانے والے ہم تینوں رفقا پنڈی پہنچ گئے۔کئی شہروں سے آنے والے حضرات کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا،تاہم علما کی اچھی خاصی تعداد اس ہنگامی اجلاس میں موجود تھی۔
اس اجلاس میں ’’مجلسِ عمل ختمِ نبوت‘‘ قائم کی گئی،جس کے سربراہ کراچی کے مولانا محمد یوسف بنوری بنائے گئے۔روپے پیسے کے لیے مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے ناظمِ اعلیٰ میاں فضل حق ناظمِ مالیات مقرر ہوئے۔
فیصل آباد سے شروع ہونے والی یہ تحریک جلد ہی ملک گیر شکل اختیار کر گئی،جس میں اہلِ حدیث علما: علامہ احسان الٰہی ظہیر،حافظ عبدالقادر روپڑی،حافظ عبدالحق صدیقی،مولانا محمد حسین شیخوپوری اور مولانا محمد رفیق مدنپوری نمایاں تھے۔ہمارے شہر فیصل آباد میں مجلسِ عمل کے صدر میاں طفیل احمد ضیاء (جماعت اسلامی) اور سیکرٹری