کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 345
اسی روز رات کو ہمارے گھر پولیس آ کر مولانا گکھڑوی،میرے والد مرحوم حاجی عبدالرحمان پٹوی اور مجھے بھی گرفتار کر کے لے گئی۔میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا،میں نے مولانا گکھڑوی کی تقریر سے قبل مولانا صمصام کی نظم ع
ویکھو مرزے قادیان والے کہیّاں پایاں بھنڈیاں
کئی قوماں دیاں قوماں کر گیا اے گندیاں
ترنم سے پڑھی،جس پر نوجوانوں میں بڑا جوش و خروش پیدا ہوا اور زور دار نعرے لگے۔مجھے تو دو ہفتے بعد صغر سنی کی وجہ سے رہا کر دیا گیا،تاہم مولانا گکھڑوی تین ماہ تک جیل میں بند رہے۔
ضلع فیصل آباد میں جڑانوالہ کی جامع مسجد اہلِ حدیث غلہ منڈی مرکز تھی،جہاں مولانا محمد عبداﷲ ثانی امرتسری اور دوسرے مکاتبِ فکر کے علما خطاب کرتے،ان کی بھی آگے چل کر گرفتاریاں ہوئیں۔
تاندلیانوالہ اور سمندری میں،جو قریبی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہیں،مولانا محمد صدیق اور مولانا محمد ابراہیم خادم نے اس تحریک میں بہت کام کیا۔مولانا محمد صدیق جامع اہلِ حدیث غلہ منڈی تاندلیانوالہ میں خطیب تھے اور مولانا خادم بہت بڑے پنجابی شاعر تھے،ان کی نظمیں ان کی شعلہ نوائی کے سبب بہت موثر ہوتیں اور پسند کی جاتی تھیں۔یہ دونوں حضرات بھی گرفتار ہو کر فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل میں چھے چھے ماہ قید رہے۔
فیصل آباد چنیوٹ بازار میں ’’عالم کافی ہاؤس‘‘ کے اوپر مجلسِ احرار کا دفتر تھا۔یہاں ایک رات بازار میں رضاکاروں کی گہما گہمی پر پولیس کی فائرنگ سے بارہ تیرہ شہادتیں ہوئیں،جس پر تحریک میں مزید گرمی اور ولولہ پیدا ہو گیا۔
ضلع ملتان میں مولانا محمد عبداﷲ گورداسپوری آف بوریوالہ (جو ان دنوں ضلعی