کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 341
اس عظیم الشان کانفرنس کے شرکا بلامبالغہ پچاس ہزار سے کم نہ ہوں گے۔مولانا جالندھری نے حافظ عبدالقادر صاحب کو وقت دینے کے بجائے شاہ صاحب کی تقریر کا اعلان کر دیا۔یہ مولانا جالندھری کا تعصب تھا اور یہ خیال بھی کہ اس طرح تو میدان اہلِ حدیث کے ہاتھ رہے گا۔بہرکیف شاہ جی نے﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾کے تحت صلح حدیبیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بظاہر شکست نظر آنے والی صلح کی شرائط کفارِ مکہ کی طرف سے منظور کر لیں تو اس میں یہ راز مضمر تھا کہ ایک سال کے وقفے کے بعد ہی فتح و نصرت ایک حقیقت بن کر سامنے آ گئی۔انھوں نے کہا کہ ایسے ہی اﷲ کے فضل و کرم سے بخاری یہ اعلان کرتا ہے کہ آج جو لوگ تحریکِ ختمِ نبوت کی ناکامیابی کی باتیں کر رہے ہیں،انھیں اس وقت کا انتظار کرنا چاہیے جب فتح و نصرت کا نکھرا ہوا چہرہ آب و تاب سے ظاہر ہو گا،پھر ہر ایک کی زبان پر ہو گا کہ حق ظاہر ہو گیا اور باطل مٹ گیا۔‘‘
چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ 1974ء میں عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ ہو گیا۔قادیانیوں کے دونوں گروہ لاہور اور قادیانی پاکستان کی قومی اسمبلی میں غیر مسلم قرار پا گئے اور تحریکِ احمدیہ قادیانیہ کے تمام مرکزی راہنما ملک چھوڑ کر فرنگیوں کے دیس میں چلے گئے۔
1974 کی تحریکِ ختمِ نبوت کے بارے میں تفصیلات اور کامیابی کی خوش گوار چند یادیں اور اس میں علمائے اہلِ حدیث کا سرِفہرست کردار میں نے کئی ایک مضامین میں تحریر کیا ہوا ہے۔یہاں اصل مقصود 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کے سلسلے میں