کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 340
طرح سے آباد نہیں ہوئی تھی،ایک بہت بڑی گراؤنڈ تھی،جہاں ایک عظیم الشان ختمِ نبوت کانفرنس بعد نمازِ عشا منعقد کی گئی۔منتظمین میں مولانا تاج محمود،مولانا عبیداﷲ احرار،چوہدری محمد عالم سالار اور تمام دینی جماعتوں کے کارکنان شامل تھے۔مقررین میں سید عطاء اﷲ شاہ بخاری،مولانا حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی اور مولانا محمد علی جالندھری تھے۔ تلاوتِ قرآنِ مجید کے بعد راقم الحروف نے نظم پڑھی،مولانا جالندھری جو اسٹیج سیکرٹری تھے،انھوں نے تقریر کے لیے حافظ محمد اسماعیل صاحب کو دعوت دی۔حضرت حافظ صاحب نے حمد و ثنا کے بعد سورت یوسف کو موضوعِ سخن بناتے ہوئے اپنی کمال شیریں بیانی اور خوش کن خطابت سے حاضرین کو محظوظ کرتے ہوئے فرمایا: ’’جس طرح حضرت یوسفu نے رہائی کے احکام کی تعمیل سے پہلے اپنے اوپر عائد کیے گئے الزامات کی صفائی اور براء ت طلب کی کہ پہلے مجھے الزامات سے بری کیا جائے،اﷲ تعالیٰ نے ان کی الزامات سے بری ہونے اور ان کی پاک دامنی کا بھی پوری تفصیل کے ساتھ تذکرہ فرمایا ہے،اسی طرح آج ہم اربابِ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جن لوگوں کو ملک کے جیل خانوں میں قید کر رکھا ہے،بتایا جائے کہ اُن کا جرم کیا ہے؟ تحفظِ ناموسِ رسالت حق و صداقت کی آواز ہے،جسے دبایا نہیں جا سکتا۔ایک وقت آئے گا کہ ہم اپنے مقاصد میں کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔قادیانیت کی جڑ اکھیڑ کر رکھ دی جائے گی اور میدان میں اﷲ تعالیٰ کے آخری نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کا پرچم پوری شان و شوکت سے لہرائے گا۔ان شاء اﷲ‘‘