کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 34
میں جماعت کے مندرجہ بالا خوش نوا مقررین کے علاوہ اکابر علما میں سے مولانا محمد اسماعیل سلفی،مولانا عبدالمجید سوہدروی اور مولانا سید ابوبکر غزنوی جیسے علم و فضل کے بلند مرتبت اور ذی وقار علما خطاب فرماتے۔ان کے علاوہ شبان اہلِ حدیث کے زیرِ انتظام دھوبی گھاٹ میں ہر سال سالانہ کانفرنس بھی منعقد ہوتی۔
مارچ 1963ء کے اوائل کی کانفرنس میں مولانا سید محمد داود غزنوی بھی تشریف لائے تھے۔دہلی میں مولانا ابوالکلام آزاد کی وفات پر ہم نے دھوبی گھاٹ میں بہت بڑا تعزیتی جلسہ منعقد کیا،جس کی صدارت حکیم نور الدین کے صاحب زادے میر عبدالقیوم (ایم پی اے) نے فرمائی۔مقررین میں مولانا سید محمد داود غزنوی اور آغا شورش کاشمیری تھے۔سید ابوبکر غزنوی کے سانحۂ ارتحال پر دھوبی گھاٹ ہی میں عظیم الشان تعزیتی جلسہ منعقد ہوا،جس سے علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا محمد حسین شیخوپوری نے خطاب کیا،جب کہ اس جلسے کی صدارت مولانا محمد اسحاق چیمہ نے فرمائی تھی۔ان بڑے بڑے اجتماعات میں راقم الحروف اسٹیج سیکرٹری ہوتا اور حضرت مولانا محمد صدیق سرپرستی فرماتے۔
علامہ احسان الٰہی ظہیر کی شہادت کے سانحے پر کارخانہ بازار میں ہم نے ایک تاریخی تعزیتی جلسہ منعقد کیا،جس میں دیگر مکاتبِ فکر کے علمائے عظام صاحبزادہ افتخار الحسن،حکیم عبدالرحیم اشرف،مولانا تاج محمود،مولانا محمد ضیاء القاسمی کے علاوہ پروفیسر ساجد میر اور حافظ عبدالحق صدیقی نے بھی خطاب کیا۔مولانا محمد اسحاق چیمہ صدر تھے،جبکہ مولانا محمد صدیق اور مولانا عبیداﷲ احرار اور ان سطور کا راقم اسٹیج سیکرٹری تھے۔کسی شہر میں بھی اس اعلیٰ پیمانے پر احتجاجی یا تعزیتی جلسہ منعقد نہ ہو سکا تھا۔
بچپن ہی سے ان سطور کا راقم آثم دینی خدمات کے ساتھ ساتھ سیاسیات کی