کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 339
فیصل آباد،چنیوٹ بازار میں عالم کافی ہاؤس کے اوپر مجلسِ احرار کا دفتر تھا۔کافی ہاؤس کے مالک چوہدی محمد عالم احرار رضا کاروں کی تنظیم کے سالار تھے۔اسی دفتر سے روزانہ جلوس نکلتے اور اسی جگہ پر خفیہ اجلاس منعقد ہوتے تھے۔احرار راہنماؤں کا آنا جانا رہتا تھا۔ایک رات آٹھ بجے کے قریب یہاں مشتعل کارکنان پر گولی چلائی گئی،جس کے نتیجے میں گیارہ کارکنان شہید ہو گئے اور بہت سے زخموں سے چور ہو گئے۔
جملہ معترضہ کے طور پر عرض کروں کہ تحریکِ خلافت 1922ء کے زمانے میں انگریزی استبداد کے خلاف لیڈروں کی جیل کہانیاں مزیدار افسانوں سے کم نہیں۔سید عطاء اﷲ شاہ بخاری تو مزے لے لے کر فرمایا کرتے تھے کہ ’’آدھی زندگی جیل میں گزر گئی اور آدھی ریل میں۔‘‘ اسی دور کے کسی بانکے نے سیاستدان نے خوب کہا تھا:
’’ہتھکڑی ہمارے لیے پھولوں کے گجرے،بیڑیاں محبوب کی زلفیں اور جیل کی کوٹھڑی اسی طرح ہے جس طرح حجلۂ عروسی۔‘‘
مولانا محمد مصطفی خان پھپھوندروی نے جیل میں کہا تھا:
جیل خانے میں ہوں سسرال کے مانند
کوئی تکلیف یہاں مجھے زنہار نہیں ہے
بات ہو رہی تھی تحریکِ ختمِ نبوت کے جانثاروں کی کہ اُن پر کس طرح مارشل لاء کی سختیاں اور تشدد کیا جا رہا تھا۔تحریک اب دب چکی تھی،مگر قائدین میں سے بیشتر اور کارکنان کی خاصی اکثریت جیلوں میں بند تھی،جن میں سے بعض کو رہائی کے لیے بھی کہا جا رہا تھا،لیکن استقلال و استقامت سے بھرپور ختمِ نبوت کے جانثار جیل سے باہر آنے کے لیے آمادہ نہیں ہو رہے تھے۔
انہی دنوں تحریک کے قریباً اختتام پر پیپلز کالونی فیصل آباد میں،جو ابھی پوری