کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 338
مولانا عبدالحامد بدایوانی کو ہمارے ساتھ ہی سنٹرل جیل لاہور میں لایا گیا۔ مولانا مجاہد الحسینی نے ذکر کیا کہ ’’بم کیس‘‘ کے نام سے لاہور سنٹرل جیل میں ایک وارڈ تھا،جسے متحدہ پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات بھیم سین سچّر نے تحریکِ آزادیِ ہند کے ہیرو بھگت سنگھ کی یاد میں تعمیر کرایا گیا تھا۔بھگت سنگھ جڑانوالہ کے قریبی گاؤں سے تعلق رکھتا تھا،جسے فرنگیوں کی اسمبلی میں بم پھینکنے کی پاداش میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔اس وارڈ میں شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی،مولانا غلام محمد ترنم اور مجھے ڈال دیا گیا۔مولانا سلفی کے علم و فضل اور بے تکلف لطائف و ظرائف سے ہم خوب محظوظ ہوتے تھے۔پھر ایسا ہوا کہ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری بھی ہمارے وارڈ میں بھیج دیے گئے،جن کے شب و روز ذکر و فکر اور عبادات میں گزرتے تھے،لیکن تھوڑے دنوں بعد ان کی خرابیِ صحت کی بنا پر انھیں رہا کر دیا گیا۔اب تحریک کا زور بڑھ رہا تھا اور مختلف دینی و سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور کارکن لاہور سنٹرل جیل میں لائے جا رہے تھے۔ مجھے مولانا حافظ محمد ابراہیم کمیر پوری نے بتایا تھا کہ مجلسِ احرار کے کچھ لیڈروں کے ناگفتہ بہ احوال اور تحریک کے مقاصد کے برعکس رویے کی بنا پر مولانا سید محمد داود غزنوی مجلسِ عمل کی سیکرٹری شپ سے مستعفی ہو گئے تھے اور ان کی جگہ مولانا محمد علی جالندھری کو جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا تھا۔اب مولانا غزنوی بادل نخواستہ تحریک کا ساتھ دے رہے تھے اور تحقیقاتی کمیشن میں اپنے فکری و بصیرت افروز بیانات سے کمیشن کے ارکان کو لاجواب بھی کر رہے تھے۔ مارشل لاء حکام کی طرف سے کارکنانِ تحریک کو ظلم و تشدد کا بری طرح نشانہ بنایا جا رہا تھا۔لاہور،فیصل آباد اور بعض دوسرے مقامات پر گولی چلائی گئی۔